پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ پیر 26 اکتوبر کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں ان کی وفات کی تصدیق کی۔
بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام افسران و جوانوں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم جنرل کے شاندار عسکری کیریئر، قیادت اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ فوج نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کی دعا کی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی جنرل کاکڑ کے انتقال پر افسوس ظاہر کیا۔ وزیرِ اعظم نے مسلح افواج کے لیے ان کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا، جبکہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور پاک فوج کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ احترام سے یاد رکھی جائیں گی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی ان کی پیشہ ورانہ لگن کو سراہا۔
جنرل عبدالوحید کاکڑ جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک پاکستان کی بری فوج کے سربراہ رہے۔ ان کے دور کا سب سے نمایاں واقعہ 1993 کا سیاسی بحران تھا، جب انہوں نے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم نواز شریف پر استعفے دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس کے نتیجے میں 1993 کے عام انتخابات ہوئے جن کے بعد بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں۔
جنرل کاکڑ اپنی مدتِ ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہو گئے تھے۔ ان کے انتقال پر سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
