جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں 25 اکتوبر کو ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے سکیورٹی فورسز کے 224 ونگ کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس حملے میں سات اہلکار زخمی ہوئے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
اسی روز ضلع خیبر میں جمرود کے قریب بھگیاڑی میں خیبر رائفلز کی مشترکہ چوکی کے قریب بھی ڈرون دیکھے جانے کی اطلاع ملی۔ ذرائع کے مطابق گردش کرنے والی ویڈیو میں اہلکار ڈرون پر فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں، اور ایک سپاہی کے زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔
بنوں کے علاقے میریان میں کنگر پل پولیس چوکی پر مسلح حملہ ہوا جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس واقعے میں جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ لکی مروت میں ذرائع کے مطابق پہلے سے اغوا شدہ ایک شخص کو رہا کر دیا گیا جبکہ عیسک خیل سے مجاہد فورس کے ایک رکن کو اغوا کیے جانے کی اطلاع ہے۔
ٹی ٹی پی کے چھ حملوں کے دعوے
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے چھ الگ بیانات میں 24 اور 25 اکتوبر کے دوران چترال، خیبر، بنوں، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کا سب سے بڑا دعویٰ شمالی وزیرستان کے علاقے غریوم میں ہندی ژاور کے ایک فوجی کیمپ پر ڈرون حملے کا ہے جس میں اس نے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی اور ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار غیر مصدقہ ہیں۔
ٹی ٹی پی نے چترال کے علاقے دروش میں ارسون کی ایک فوجی چوکی، جمرود میں بھگیاڑی کی چوکی، بنوں کی کنگر پل چوکی اور جنوبی وزیرستان میں اعظم ورسک اور بدر کے علاقے سلے روغہ میں سکیورٹی پوزیشنز پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا، تاہم ان میں سے بیشتر کے بارے میں کوئی جانی نقصان نہیں بتایا گیا۔
ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق 24 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے زرکنی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی میں چھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو فوجی شہید ہوئے۔ اس کارروائی کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ڈرون حملوں کا بڑھتا رجحان سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
