بلوچستان کے ضلع کچھی میں ڈھاڈر کے قریب ایک دھماکے سے بجلی کا ٹرانسمیشن ٹاور تباہ ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے۔
اسی دوران ضلع جھل مگسی میں پیر چھتہ شاہ نورانی روڈ پر گھٹرہ سلوپ کے قریب، ایک پرانے بیس کیمپ سے آگے، دو لاشیں ملنے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ان افراد کی ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل کھاری سے اغوا کیا گیا تھا، تاہم ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تربت میں پولیس نے کلاتک مین کراس کے قریب سے ایک اور لاش برآمد کی، جسے شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا۔
صوبائی حکومت یا سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان واقعات پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں بجلی کے ٹاورز اور پلوں کو نشانہ بنانے کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں؛ خضدار میں پل اڑائے جانے کی خبر یہاں پڑھیں۔
