بلوچستان کے ضلع خضدار میں کرخ کے علاقے لکھارو میں نامعلوم مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے ایک پل تباہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے میں جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔
ذرائع کے مطابق ضلع نوشکی میں ہیزدہ خول کے قریب ریکو کے علاقے میں ایک فوجی چوکی پر رات بھر جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد مسلح افراد نے فوجی اہلکاروں پر دوبارہ حملہ کیا، اور جب کمک علاقے کی طرف بڑھی تو مزید فائرنگ کی اطلاعات ملیں۔
مستونگ کے علاقے دشت بابا میں بھی مسلح افراد نے آپریشن میں مصروف سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔ ایک مقامی صحافی نے اس حملے میں تین اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، مگر ان ہلاکتوں کی کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
آئی ایس پی آر یا صوبائی حکومت کی جانب سے ان واقعات پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں مواصلاتی ڈھانچے، بجلی کے کھمبوں اور پلوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے دور دراز علاقوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔ نصیر آباد میں بجلی کے ٹاورز گرائے جانے کی خبر یہاں پڑھیں۔
