حکومت اور جماعت اسلامی نے منگل کو چھ رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا ہے جو وزیر اعظم کی فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانے اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کی قابل عمل تجاویز تیار کرے گی۔ یہ اتفاق اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں آنے والے وفد کی ملاقات میں ہوا۔
وزیر اعظم آفس کے بیان کے مطابق کمیٹی میں دونوں جانب سے تین تین ارکان ہوں گے۔ حکومت کی نمائندگی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کریں گے۔ کمیٹی لیوی میں کمی کی تجاویز بجٹ میں غور کے لیے پیش کرے گی۔
ملاقات میں وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے عوام، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے پر بوجھ ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اضافہ حکومتی پالیسی کے بجائے علاقائی اور عالمی حالات کا نتیجہ ہے اور حکومت اپنی مالی گنجائش کے اندر ریلیف دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ایک کروڑ 26 لاکھ افراد فیول ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو لیوی ختم کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔ ملاقات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سمیت کئی وفاقی وزرا بھی شریک تھے۔
