مواد پر جائیں

پاکستان، امریکا توانائی تعاون بڑھانے پر متفق

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے پیر کو اسلام آباد میں ملاقات میں ایل این جی، ریفائنری اپ گریڈیشن اور طویل مدتی توانائی معاہدوں پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

پاکستان اور امریکا نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات میں ایل این جی کی فراہمی، ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور طویل مدتی توانائی معاہدوں کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر پیٹرولیم نے امریکی سفارتکار کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ نے ایندھن کی دستیابی کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں اور حکومت بلا تعطل سپلائی برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔ نیٹلی بیکر نے مشکل علاقائی حالات کے باوجود ملک میں ایندھن کی قلت نہ ہونے دینے پر پاکستان کو سراہا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کا ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام امریکی مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ امریکی ناظم الامور نے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی اور طویل مدتی سپلائی معاہدوں کے بارے میں امید ظاہر کی، جنہیں انہوں نے دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔

ملاقات میں پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے شرکا کو ایل این جی کی فراہمی میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔ وزیر نے امریکی کمپنیوں کو آئندہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکا پاکستان کے توانائی شعبے میں دلچسپی بڑھا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ستمبر میں او جی ڈی سی ایل نے امریکی کمپنی بیکر ہیوز کے ساتھ پرانے تیل و گیس کنوؤں کی پیداوار بحال کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جبکہ 25 اکتوبر کو گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے بھی خطے کے توانائی شعبے میں امریکی دلچسپی کا ذکر کیا تھا۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-27-pakistan-us-energy-cooperation-lng-talks?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

کاروبار کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں