پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو بھی تیزی کا رجحان جاری رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دوپہر 12 بج کر 54 منٹ تک 1,030.21 پوائنٹس یا 0.63 فیصد اضافے سے 164,068.67 پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کو پس پشت ڈال دیا، کیونکہ ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے حل کی جانب پیش رفت کی امیدوں نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔
کاروبار کا آغاز ہی مضبوط ہوا اور صبح 9 بج کر 34 منٹ پر انڈیکس 875.75 پوائنٹس بڑھ کر 163,914.21 پر تھا۔ دوران کاروبار انڈیکس 164,368.47 کی بلند ترین اور 163,545.69 کی کم ترین سطح پر رہا، جبکہ 6 کروڑ 38 لاکھ سے زائد حصص کا لین دین ہوا جن کی مالیت 4.96 ارب روپے رہی۔ سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں خریداری دیکھی گئی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً ایک فیصد گر گئیں کیونکہ ایران تنازع کے حل کی امید سے رسد کے خدشات کم ہوئے۔ برینٹ خام تیل 0.86 فیصد کمی سے 114.81 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 100.88 ڈالر پر آ گیا۔ تاہم سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کو بدستور نمایاں رکھا ہے۔
