پاکستان میں ستمبر 2026 کے دوران معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری پالیسی سے متعلق غیر یقینی میں نمایاں کمی آئی۔ لاہور اسکول آف اکنامکس کے پالیسی غیر یقینی انڈیکس کے مطابق یہ شرح ماہانہ بنیاد پر 24.21 فیصد کم ہو کر 162.46 پر آ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں نے پالیسی ماحول کو زیادہ مستحکم محسوس کیا۔
اس کمی کی بڑی وجوہات میں اسٹیٹ بینک کا ستمبر میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنا، زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑھ کر 26.8 ارب ڈالر ہو جانا اور ایف بی آر کا پہلی سہ ماہی کا مجموعی ریونیو ہدف پورا کرنا شامل ہیں۔ تاہم پیر کو اسٹیٹ بینک نے شرح سود 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی۔
اس بہتری کے باوجود کئی خدشات برقرار رہے۔ انکم ٹیکس کی وصولی ہدف سے کم رہی اور توانائی کی قیمتوں سے جڑے شعبوں میں غیر یقینی بلند رہی۔ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل جاری رکھا، پیٹرولیم لیوی بلند سطح پر رکھی اور ایندھن سبسڈی اسکیم متعارف کرائی، جس پر آئی ایم ایف نے تحفظات ظاہر کیے۔ مطالعے کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ جائزہ مذاکرات ایندھن سبسڈی، گیس شعبے کے واجبات اور گردشی قرضے جیسے معاملات پر تعطل کا شکار رہے، اور اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو معاشی اعتماد میں بہتری محدود رہ سکتی ہے۔
تجارتی پالیسی کی غیر یقینی میں بھی کمی آئی، اگرچہ یہ اب بھی نسبتاً بلند سطح پر ہے۔ لاہور اسکول کا تجارتی پالیسی غیر یقینی انڈیکس ستمبر میں 22.1 فیصد کم ہو کر 192.89 پر آ گیا۔ اس کی وجہ اگست میں تجارتی خسارے میں کمی اور جولائی تا اگست برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ رہا، جبکہ حکومت نے ٹیرف میں کمی کا پروگرام بھی جاری رکھا اور درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی گھٹا دی۔
