پاکستان نے اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) گروپ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی جانب سے پیش کردہ 49 کروڑ ڈالر کا تجارتی قرض زیادہ لاگت کے باعث مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے وزارتِ خزانہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس نے کیا، اور یہ سہولت ایک سال کی مدت کے لیے پیش کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیٹ آفس تقریباً 6 فیصد لاگت کی توقع کر رہا تھا، جبکہ آئی ٹی ایف سی کی پیشکش میں مجموعی لاگت قریب 8 فیصد بنتی تھی، جو دسمبر 2027 میں میچور ہونے والے پاکستانی بانڈ کی 6.1 فیصد کی شرح سے بھی زیادہ ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اب اقتصادی امور ڈویژن سے کہا ہے کہ آئی ٹی ایف سی یا کسی اور ذریعے سے مسابقتی شرح پر نئی سہولت تلاش کی جائے۔ وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے اس فیصلے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ انکار ایسے وقت ہوا ہے جب ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات بلند سطح پر ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے سالانہ قرض منصوبے کے مطابق مالی سال 2026-27 میں یہ ضروریات 28.647 کھرب روپے، یعنی جی ڈی پی کے تقریباً 20 فیصد کے برابر ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ نے گزشتہ مالی سال کے لیے یہ شرح قریب 22 فیصد دکھائی ہے۔ آئی ایم ایف نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1 فیصد، یعنی تقریباً 4.5 ارب ڈالر رہنے کا اندازہ لگایا ہے، جو حکومتی تخمینے سے کم از کم 1.5 ارب ڈالر زیادہ ہے۔
اس سے قبل اگست میں حکومت ایک مقامی بینک سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض لے چکی ہے، جبکہ ستمبر میں یورو بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر اکٹھے کیے گئے، جن میں ساڑھے پانچ سالہ بانڈ پر 7.5 فیصد اور دس سالہ بانڈ پر 7.9 فیصد کوپن ریٹ رکھا گیا۔ مہنگے قرض سے انکار سود کی لاگت قابو میں رکھنے کی کوشش ہے، تاہم بھاری مالیاتی ضروریات کے ہوتے ہوئے متبادل سستا قرض تلاش کرنا حکومت کے لیے بڑا امتحان ہوگا۔
