مواد پر جائیں

مکہ دفاعی معاہدہ ترک پارلیمانی کمیٹی سے منظور

ترکیہ کی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی نے منگل کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل منظور کر لیا۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

ترکیہ کی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی نے منگل کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل منظور کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ 7 اگست کو مکہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیا تھا۔

کمیٹی کے اجلاس میں ترک نائب وزیر خارجہ لیونت گمرکچو نے ارکان کے سوالات کے جواب دیے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور پاکستان اپنے ہاں توثیق کا عمل مکمل کر کے باضابطہ اطلاع دے چکے ہیں، یوں اب ترکیہ کی منظوری باقی ہے۔

گمرکچو کے مطابق یہ معاہدہ "تینوں ممالک کے خصوصی دوستانہ تعلقات کی توسیع ہی نہیں بلکہ خطے کی اپنی ذمہ داری کا ٹھوس نتیجہ" ہے، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ خطے کے مسائل کا حل باہر سے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود تلاش کیا جائے۔

کسی ملک کے خلاف نہیں

ترک نائب وزیر خارجہ نے زور دیا کہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کو نشانہ نہیں بناتا۔ ان کے بقول یہ خطے کے ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں، اور یہ "بلاک بنانے کے بجائے انضمام" کا تصور پیش کرتا ہے۔

معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانے، بین الاقوامی سلامتی کے امور پر باقاعدہ مشاورت، اہلکاروں کے تبادلے، مشترکہ تربیت اور فوجی مشقوں کے ذریعے تینوں ممالک کی افواج میں ہم آہنگی بڑھانے اور دفاعی صنعت میں قریبی تعاون کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کمیٹی سے منظوری کے بعد بل اب ترک پارلیمان کے مکمل ایوان میں پیش ہوگا۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-27-turkey-committee-approves-makkah-defence-pact?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں