پاکستان نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کا ویٹو اختیار ختم کیا جائے یا کم از کم اس کے استعمال پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔ ویٹو کے استعمال پر ہونے والی بحث میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سروانی نے کہا کہ ویٹو کا غلط استعمال کونسل کی کارکردگی کمزور کرتا ہے اور عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
سروانی کا کہنا تھا کہ مستقل ارکان کی اسٹریٹجک رقابتوں اور محدود مفادات نے بار بار عالمی امن و سلامتی کے لیے اجتماعی اقدام کا راستہ روکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئے مستقل ارکان شامل کرنے اور انہیں ویٹو دینے سے موجودہ عدم مساوات مزید گہری ہوگی اور کونسل کے مفلوج ہونے کا خطرہ بڑھے گا۔
اتحاد برائے اتفاق رائے (یونائٹنگ فار کنسینسس) گروپ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے پاکستان نے توسیع شدہ سلامتی کونسل میں کسی بھی نئی مستقل نشست کی مخالفت کی۔ پاکستانی مندوب نے جنرل اسمبلی کی قرارداد 76/262 کی حمایت کا اعادہ بھی کیا، جس کے تحت ویٹو استعمال ہونے کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث لازمی ہوتی ہے۔
سروانی نے کہا کہ ویٹو پر پابندیوں کے ساتھ منتخب ارکان کی بہتر نمائندگی اور مضبوط کردار ضروری ہے، اور ویٹو کا معاملہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کے دیگر چار باہم جڑے نکات کے ساتھ ایک جامع پیکیج کے طور پر حل ہونا چاہیے۔ پاکستان کا یہ مؤقف بھارت سمیت ان ممالک کی کوششوں کے برعکس ہے جو کونسل میں مستقل نشست کے خواہاں ہیں۔
