مواد پر جائیں

سندھ کی تقسیم کی بحث ختم کی جائے: بلاول

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کو کراچی میں کہا کہ سندھ اسمبلی صوبے میں نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر فیصلہ دے چکی ہے، اس لیے یہ بحث اب ختم ہو جانی چاہیے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل 27 اکتوبر کو کراچی میں کہا ہے کہ سندھ اسمبلی صوبے میں مزید انتظامی یونٹس کے معاملے پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے اور اب اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیے۔

لیاری میں 1938 میں قائم ڈاکٹر کیخسرو نانابھائے اسپینسر آئی اسپتال کی توسیع کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول نے سندھ کی تقسیم کے خلاف پارٹی مؤقف دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اور سندھ اسمبلی بار بار اپنا مؤقف واضح کر چکی ہیں، اور صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام ہی کر سکتے ہیں، کسی اور کو اس کے شہروں کی قسمت طے کرنے کا حق نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت یا اتحادی جماعتوں نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی کی کوئی تجویز ان سے زیر بحث نہیں لائی۔ انہوں نے بعض سیاسی نمائندوں پر عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے تقسیم اور نفرت پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔

بلاول نے کراچی کو ملک کا معاشی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے مسائل وفاق، صوبے اور مقامی حکومت کے باہمی تعاون سے ہی حل ہو سکتے ہیں، اور وفاق پر کراچی کو اس کا جائز حصہ نہ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے بجلی کے بحران پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اسپینسر آئی اسپتال کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے، اور وہ لیاری بھر میں سستی بجلی کے لیے ایسے ہی انتظامات چاہتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایم کیو ایم پاکستان شہری سندھ کے مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-28-bilawal-rejects-new-admin-units-sindh?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں