پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ڈرون حملوں سے نمٹنے کی عملی تیاری میں بہت آگے ہے اور افغانستان یا بھارت کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی ڈرون کو فضا میں روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعے کو ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کہی، جسے اتوار کو سرکاری میڈیا نے جاری کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یمن کے حوثیوں کی طرح افغان طالبان بھی پاکستان کے خلاف ڈرون استعمال کر سکتے ہیں، تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے اور فوج اسی کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ ان کے بقول فوج روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ براہ راست رابطے کے بغیر لڑی جانے والی جنگ، یعنی ڈرون، سائبر کارروائیوں اور دور مار ہتھیاروں کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ڈرون کی کوئی صنعت یا ٹیکنالوجی موجود نہیں۔ "یہ صلاحیت ان کے سرپرستوں نے فراہم کی ہے، اور یہاں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست بھارت ہے،" انہوں نے کہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افغان طالبان پاکستان میں دہشت گردی کے معاملے میں بھارت کی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ افغان طالبان ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
بھارت کے ساتھ گزشتہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی افواج نے بھارت کے درجنوں جدید ڈرون مار گرائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ڈرون بھیجنے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن پاکستان انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور افغانستان اس جوابی کارروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا جو پاکستان کر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج جنگ کے بدلتے تقاضوں کے لیے ضروری ہر ٹیکنالوجی اپنا رہی ہے، تاہم انہوں نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیتوں کے مخصوص استعمال کی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا۔ "ہم ٹیکنالوجی سے آراستہ فوج ہیں،" انہوں نے کہا۔
