یورپ کے سات ممالک میں درجنوں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریٹرز اور فریزر ایک سائبر حملے کی زد میں آ گئے ہیں، جس کے بعد کئی دکانوں کو بڑی مقدار میں خوراک ضائع کرنا پڑی۔ متاثرہ دکانوں میں بیلجیئم اور لکسمبرگ میں ڈیلہائز کی تقریباً 40 سپر مارکیٹیں شامل ہیں، جبکہ سویڈن، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، ایسٹونیا اور فن لینڈ میں بھی کچھ دکانیں متاثر ہوئیں۔
متاثرہ ریفریجریٹر بنانے والی بیلجیئم کی کمپنی سیبکوبیل کے مطابق حملے میں یونٹس کے ایواپوریٹرز کو ڈی فراسٹ موڈ پر منتقل کر دیا گیا جس سے وہ گرم ہونے لگے۔ خیال ہے کہ یہ وہی طریقہ ہے جو گزشتہ ماہ فرانس کی سینکڑوں سپر مارکیٹوں پر حملے میں استعمال ہوا تھا، جب لاکھوں یورو کی خوراک پھینکنی پڑی تھی۔ بعض دکانوں میں فریزروں کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جانے کی اطلاعات ہیں۔
کمپنی کے سربراہ اسٹیفن مولانز نے کہا کہ ان کی ٹیم رات بھر متاثرہ یونٹس کو نیٹ ورک سے الگ کرنے میں مصروف رہی۔ ان کے مطابق فرانس کے واقعے کے بعد سے اس کمزوری کا توڑ کیا جا رہا تھا، لیکن اس کے لیے صرف سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کافی نہیں بلکہ یونٹس میں جسمانی تبدیلیاں بھی درکار ہیں، اور سب سے آسان حل یہ ہے کہ فریزروں کو محفوظ انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے چلایا جائے۔ یورپ کی بیشتر سپر مارکیٹوں کے نظام انٹرنیٹ سے جڑے ہیں تاکہ ان کی دیکھ بھال دور سے کی جا سکے۔
بیلجیئم اور سویڈن کے قومی سائبر سکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے کہا کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے؛ برطانیہ میں کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ بیلجیئم کی ایک متاثرہ دکان کے مینیجر کے مطابق صرف ان کے ہاں ایک لاکھ یورو کا سامان ضائع ہوا۔ امریکہ میں حکام اگست میں کئی فوجی اڈوں پر ریفریجریشن کی خرابیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور فرانسیسی حکام کے ساتھ مل کر جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔
