وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کو اسلام آباد میں معیشت اور سرکاری انتظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علی بابا کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت پر تیزی سے عملدرآمد کا حکم دیا۔ وزیرِ اعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں ہے۔‘
انہوں نے متعلقہ اداروں کو تمام ضروری اقدامات نومبر تک مکمل کر کے پیش رفت رپورٹ دینے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی علی بابا کے تعاون سے کینسر کی جلد تشخیص کا اے آئی نظام جلد از جلد شروع کرنے اور وزارتِ آئی ٹی کے اگنائٹ پروگرام کے تحت آئی ٹی گریجویٹس کے لیے پندرہ روزہ اے آئی تربیت شروع کرنے کا بھی حکم دیا۔
یاد رہے کہ مئی میں وزیرِ اعظم کے دورۂ چین کے دوران ہانگژو میں علی بابا کے ہیڈکوارٹر میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ علی بابا کے پلیٹ فارم پر پاکستان کا الگ پویلین قائم ہو چکا ہے اور پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق بھی شروع ہو گئی ہے۔
اوگرا کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے ڈیٹا پر مبنی نظام متعارف کرانے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ایکسپورٹ پروموشن بورڈ برآمدات بڑھانے کے لیے علی بابا کے ساتھ کام کرے گا۔ زرعی اے آئی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور کینو و زیتون کی برآمد کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی کام جاری ہے، اور سمیڈا اور علی بابا چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے دو سالہ پروگرام شروع کر رہے ہیں۔
