کرپٹو کرنسی کے سب سے بڑے عالمی ایکسچینج بائنانس نے کہا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے ہیک میں چوری ہونے والے 6.3 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 90 فیصد نقصان پورا کر دیا گیا ہے، اور باقی 10 فیصد کی مطلوبہ مقدار جمع کرنے میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری سمجھی جا رہی ہے۔
کمپنی نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا: "چوری شدہ رقم کا مالی بوجھ بائنانس اٹھائے گا، ہمارے صارفین نہیں۔" بائنانس کے مطابق اس مقصد کے لیے کمپنی کے فنڈز سے 6.34 ارب ڈالر سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، اور بٹ کوائن، ایتھیریم اور ٹیتھر سمیت دس بڑے کرپٹو اثاثوں کے تمام کھاتے پورے کر دیے گئے ہیں۔ اتوار کو کمپنی نے بتایا کہ ہیک کے بعد معطل کی گئی رقوم نکالنے کی سہولت کئی نیٹ ورکس پر بحال کر دی گئی ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ہفتے کو کہا کہ اس حملے کے پیچھے شمالی کوریا ہے۔ ادارے کے مطابق ہیکرز چوری شدہ اثاثوں کو ایتھیریم میں تبدیل کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ بعد میں انہیں ڈی سینٹرلائزڈ فنانس اور فوری تبادلے کی سروسز کے ذریعے مزید منتقل کیا جائے گا۔ ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ریاستی ہیکنگ گروپ لازارس، جسے ٹریڈر ٹریٹر بھی کہا جاتا ہے، کا نام لیا ہے۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ابھی یقین نہیں کہ حملہ آور کون ہیں، اور اگر یہ شمالی کوریا ہوا تو اس سے بات کی جائے گی۔
بائنانس کی ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہونے سے غیر مجاز رقوم نکالی گئیں، تاہم بعد میں کمپنی نے "مزید کمزور مقامات" کی نشاندہی بھی کی۔ شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ کے مطابق حملے میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے جنہوں نے نشانات مٹانے کے لیے "خود کو تباہ کرنے والا نظام" استعمال کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے تقریباً 3 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔ اس سے پہلے سب سے بڑی کرپٹو چوری 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی تھی، جس کا الزام بھی شمالی کوریا پر لگا تھا۔
