امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ صرف تین ہفتوں میں جیت سکتے تھے۔ اتوار کو ریاست آئیووا کے شہر ڈیوبیوک میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ کی سب سے طویل جنگ کا ذکر کیا اور سابق امریکی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ برسوں تک لڑتا رہا لیکن ہم جیتنے کے لیے نہیں لڑتے، بلکہ برابری کے لیے لڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وہ جنگ تین ہفتوں میں جیت سکتا تھا۔ اسی تقریر میں انہوں نے ویتنام کی جنگ کے بارے میں بھی ایسا ہی دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ اسے ایک ہفتے میں جیت لیتے۔
امریکہ نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اکتوبر 2001 میں افغانستان پر فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ یہ جنگ تقریباً 20 سال جاری رہی اور اگست 2021 میں امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوا، جس کے ساتھ ہی طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے۔ ٹرمپ کی اپنی پہلی مدتِ صدارت میں فروری 2020 میں دوحہ میں طالبان کے ساتھ وہ معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکی انخلا کی راہ ہموار ہوئی۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب منگل کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں اور کابل امریکہ سے افغان تارکینِ وطن کی ملک بدری کے معاملے پر احتیاط برتنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔
