یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے زاپوریژیا میں ایک امدادی مرکز پر روسی بمباری سے 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو بتایا کہ حملے میں کومیشوواخا گاؤں کا وہ اسکول تباہ ہو گیا جسے انسانی امداد کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔
زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ پہلے فضائی حملے کے بعد نو مزید بم براہِ راست اس پناہ گاہ پر گرائے گئے جہاں لوگ جمع تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسیوں کو معلوم تھا کہ گاؤں میں رہ جانے والے لوگ ہر ہفتے یہیں سے امداد لیتے ہیں، اور یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس نہ کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور نہ حقیقی انصاف۔
علاقائی گورنر میخائلو سیمیکن کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک پولیس اہلکار اور ہنگامی خدمات کے دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔ ہنگامی خدمات کی جاری کردہ فوٹیج میں عمارت ملبے کے سلگتے ڈھیر میں بدلی دکھائی دی جہاں امدادی ٹیمیں کام کر رہی تھیں۔ روس کی جانب سے اس حملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ اولیشکی میں انسانی بنیادوں پر کی گئی کارروائی کے بعد ایک ایسا لمحہ آیا تھا جب امن کی جانب پیش رفت ممکن دکھائی دے رہی تھی، لیکن ان ہلاکتوں سے روس بالکل الٹا پیغام دے رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے دیگر علاقوں میں بھی حملے جاری رہے، خارکیف میں ڈرون حملوں سے 12 اور اوڈیسا میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جبکہ روسی وزارتِ دفاع نے رات بھر میں 212 یوکرینی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
