برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کا خواب دیکھنے والے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک نیا راستہ کھل گیا ہے۔ برطانوی حکومت کے بین الاقوامی وظائف کے پروگرام شیوننگ اور الائیڈ بینک لمیٹڈ نے شراکت داری کے تحت برطانیہ کی صفِ اول کی یونیورسٹیوں میں مکمل فنڈڈ ماسٹرز وظائف کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن کے بیان کے مطابق 'شیوننگ اے بی ایل اسکالرشپ' کے تحت 2027-28 سے شروع ہو کر تین تعلیمی سال تک ہر سال دو پاکستانی طلبہ کو وظیفہ دیا جائے گا۔ منتخب طلبہ مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل تبدیلی، معاشیات اور مالیاتی شمولیت جیسے مضامین میں تعلیم حاصل کریں گے۔
پہلے دو وظیفہ یافتگان 2027-28 کے تعلیمی سال کے لیے پہلے سے موجود درخواست دہندگان میں سے منتخب کیے جائیں گے۔ 2028-29 کے لیے درخواستیں اگست 2027 میں شیوننگ کے معمول کے درخواستی دور کے ساتھ کھلنے کی توقع ہے، اور کامیاب امیدوار 2028 میں برطانیہ میں تعلیم شروع کریں گے۔ شیوننگ 1983 سے ایک سالہ ماسٹرز کے لیے ٹیوشن فیس، رہائشی اخراجات اور سفر سمیت مکمل خرچ دیتا ہے۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ 'پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے لوگ ہیں' اور امید ظاہر کی کہ یہ شراکت باصلاحیت مستقبل کے رہنماؤں کو برطانیہ کی عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور نئے خیالات وطن واپس لانے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر موزوں ہے کہ ایک سابق شیوننگ اسکالر اب اگلی نسل کے لیے وہی دروازہ کھول رہا ہے۔
ان کا اشارہ الائیڈ بینک کے صدر اور سی ای او ایزد گل کی طرف تھا، جنہوں نے 2001 میں شیوننگ اسکالر کے طور پر یونیورسٹی آف مانچسٹر سے بزنس اکنامکس میں ایم ایس سی کی تھی اور جو پاکستان کے تقریباً دو ہزار شیوننگ سابق طلبہ میں شامل ہیں۔ ایزد گل کا کہنا تھا کہ یہ وظیفہ باصلاحیت پاکستانیوں کو سیکھنے، آگے بڑھنے اور یہ تجربہ وطن واپس لانے کا موقع دینے کے لیے ہے۔ اب تک 160 سے زائد ممالک کے تقریباً 60 ہزار افراد شیوننگ کے ذریعے برطانیہ میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
