مواد پر جائیں

فاٹا کا انضمام ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اصل مسئلہ وسائل کا ہے: مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ اعلیٰ حکومتی شخصیات نے فاٹا کا انضمام غلط قرار دے کر سابقہ حیثیت بحال کرنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے انتظامی ناکامیوں، قبائلی زمینوں، پولیس اور وسائل سے متعلق سوالات اٹھائے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

3 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ختم کرنے کی مبینہ تجاویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آج اصل مسئلہ فاٹا کے وسائل اور اس کی معیشت کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات نے ان سے براہِ راست کہا ہے کہ انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور اب سابقہ حیثیت بحال کرنا چاہتے ہیں۔

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ ملک اور سرزمین اللہ کی دی ہوئی نعمت اور قوم کے ہاتھ میں امانت ہے۔ ان کے بقول امانت کے لیے دیانت ضروری ہے، جس کا تقاضا اس سرزمین کی حفاظت، خوشحالی اور ترقی کے لیے مسلسل کوشش کرنا ہے۔

انہوں نے قبائلی علاقوں کی صورتِ حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں کو فاٹا کہا جاتا تھا، انہیں طویل عرصے سے تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اور اب دوبارہ سابقہ پوزیشن میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت کا اس معاملے پر پہلے بھی سیاسی مؤقف تھا اور اب بھی ہے، جسے دلیل کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہم بات کرتے ہیں دلیل کے ساتھ اور پھر ہم پاکستانی ہیں، ہم اس خطے کے فرزند ہیں۔" انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ذہنوں میں سوالات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں تو حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کا جواب دے اور خدشات دور کرے، لیکن سیاسی ماحول کو الزام تراشیوں اور کردار کشی سے پراگندہ کیا جاتا ہے۔

انضمام ختم کرنے کی زیرِبحث مبینہ تجاویز کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ "مجھے اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات نے براہِ راست کہا ہے کہ فاٹا کا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔" ان کے مطابق نظام چلانے والی شخصیات نے انہیں بتایا کہ وہ انضمام ختم کرکے قبائلی علاقوں کی سابقہ وفاقی حیثیت بحال کرنا چاہتی ہیں۔ ان باتوں کو مولانا کا دعویٰ سمجھا جائے؛ کسی نئے حکومتی فیصلے کی آزاد تصدیق اس بیان سے نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ جب فاٹا کے انضمام پر ان کی جماعت نے اختلاف کیا تو اس پر الزامات لگائے گئے، مگر اس کے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے سوال کیا کہ ماضی میں یہ فیصلہ کس بڑی قوت کے کہنے پر کیا گیا اور اب فاٹا کو دوبارہ وفاق کے زیرِانتظام لانے کی کوشش کس بڑی طاقت کے مفاد کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا، "یہ غلامانہ ذہنیت ہے،نوکری کرو تو ذرا شائستگی کے ساتھ تو کرو،اپنی قوم کو بیچتے ہو !" بیرونی مفادات سے متعلق یہ ان کے سیاسی الزامات ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے یاد دلایا کہ انضمام کے وقت یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کا مسئلہ تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اسی لیے رائے دی تھی کہ حالات اس فیصلے کے لیے موزوں نہیں، مگر اس اختلاف کو سننے کے بجائے مخالفت اور الزام تراشی کی گئی۔

انتظامی مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بقول انضمام اور ترمیم کو تقریباً دس سال ہونے کو ہیں، لیکن بندوبستی نظام قائم نہیں ہو سکا، پٹواری نہیں پہنچ سکا اور قانون کا نفاذ مکمل نہیں ہوا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ چھ سے سات پشتوں سے قبائل کی مشترکہ ملکیت میں موجود جائیدادوں کی تقسیم بھی نہیں کی جا سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں میں پولیس کا نظام منظم نہیں کیا جا سکا اور ڈپٹی کمشنر عملی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس صورتِ حال کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر "وہاں پر حیران و پریشان بیٹھا ہے کہ میں کروں تو کیا کروں؟" یہ ان کی بیان کردہ انتظامی صورتِ حال ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے آخر میں کہا، "آج مسئلہ سیاسی یا آئینی نہیں ہے، آج مسئلہ فاٹا کے وسائل کا ہے اور فاٹا کی معیشت کا ہے"۔ ان کے مطابق انضمام کے فیصلے کو اُس وقت کے حالات میں اور موجودہ تجاویز کو آج کے حالات میں دیکھنا چاہیے، تاکہ واضح ہو سکے کہ پہلے کیا مدنظر تھا اور اب کس مقصد اور مفاد کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/fazlur-rehman-peshawar-fata-merger-reversal-resources-2026-11-02?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں