لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز میں مستقل نوعیت کی آسامیوں پر کام کرنے والے دیہاڑی دار اور ورک چارجڈ ملازمین نو ماہ کی مقررہ مدت پوری کرنے کے بعد مستقل ورکر کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں، خواہ متعلقہ اتھارٹی نے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہو یا نہیں۔
جسٹس خالد اسحاق نے متعدد آئینی درخواستیں منظور کرتے ہوئے کہا کہ دیہاڑی دار، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ ملازمین سے متعلق پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی ہیلتھ اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوتی ہے، اور خودمختار ادارہ ہونے کا عذر اس سے بچنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے اہل ملازمین کو مستقل حیثیت نہ دینے کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی درخواستیں مسترد کرنے کے احکامات کالعدم کر دیے۔
درخواست گزاروں میں ڈیٹا انٹری آپریٹرز، خاکروب اور ایک لیبارٹری اسسٹنٹ شامل تھے جو صوبے کے مختلف سرکاری ہسپتالوں اور مراکزِ صحت میں کام کر رہے تھے۔ زیادہ تر کو ابتدا میں 89 دن کے لیے رکھا گیا اور پھر کئی برس تک بار بار توسیع دی جاتی رہی، حالانکہ ان کا کام مستقل نوعیت کا تھا۔ فیصلے کے مطابق بعض ملازمین 2016 اور 2017 سے خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ کچھ کو زبانی احکامات پر فارغ کر دیا گیا، حالانکہ دوسرے اضلاع میں ایسے ہی ملازمین کو مستقل کیا جا چکا تھا۔
سرکاری محکموں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہیلتھ اتھارٹیز خودمختار ادارے ہیں اور ان پر یہ پالیسی لاگو نہیں ہوتی، جبکہ بعض نے مالی مشکلات کا بھی حوالہ دیا۔ عدالت نے یہ دلیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہیلتھ اتھارٹیز کے قواعد کے تحت ان کے سربراہ حکومت کی طے کردہ پالیسیوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سرکاری ملازم کے طور پر ریگولرائزیشن اور لیبر قوانین کے تحت مستقل ورکر کا درجہ دو الگ چیزیں ہیں۔
