پاکستان میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں کو نکال کر ناپی جانے والی بنیادی مہنگائی اکتوبر میں مسلسل دوسرے مہینے کم ہو کر 7.5 فیصد پر آ گئی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے پیر کو جاری اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 7.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 7.1 فیصد رہی، جبکہ اگست میں یہ 8.8 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔
یہ کمی اس لیے اہم ہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ہفتے پالیسی ریٹ بڑھا کر 12 فیصد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ خوراک اور توانائی کی بلند قیمتیں بنیادی مہنگائی میں سرایت کر سکتی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے بعد پالیسی ریٹ اور بنیادی مہنگائی کے درمیان فرق 4.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کا فائدہ کمرشل بینکوں اور نقصان قرض لینے والوں، خصوصاً وزارتِ خزانہ کو ہوتا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی مہنگائی بھی کم ہو کر 9.6 فیصد رہی، جو شہری علاقوں میں 9.5 اور دیہی علاقوں میں 9.8 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان میں مہنگائی کا تخمینہ بڑھا کر 9.9 فیصد کر دیا ہے، جو سرکاری ہدف 8.2 فیصد سے زیادہ ہے۔
اس کے باوجود عام شہری پر بوجھ کم نہیں ہوا۔ سرکاری بلیٹن کے مطابق اکتوبر میں پیٹرول کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 42 فیصد، ٹرانسپورٹ کرایے 27 فیصد اور بجلی کے نرخ 23 فیصد زیادہ رہے۔ پیاز 82 فیصد، گندم 39 فیصد اور آٹا 35 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ ٹماٹر، آلو، چینی، انڈے اور دالیں 10 سے 55 فیصد تک سستی رہیں۔
