افغانستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون کی ایک دستاویز حتمی شکل اختیار کر چکی ہے اور جلد اس پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات منگل کو کابل میں طالبان حکومت کے نائب وزیرِ اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر کی زیرِ صدارت ہونے والے رابطہ اجلاس کے بعد ان کے دفتر کے بیان میں بتائی گئی۔
بیان کے مطابق یہ دستاویز حال ہی میں روس کے علاقے تاتارستان میں ہونے والے قازان فورم کے موقع پر روسی فریق کے ساتھ مل کر تیار کی گئی تھی۔ اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے افغانستان روس مشترکہ اقتصادی کمیشن کے حالیہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی، اور بتایا گیا کہ کمیشن کے کام کو آگے بڑھانے کا منصوبہ تیار کر کے حتمی منظوری کے لیے طالبان رہبر کے دفتر کو بھیج دیا گیا ہے۔
اجلاس میں مشترکہ کمیشن کے فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقوں پر غور کیا گیا اور بنیادی ڈھانچے، تجارت، بجلی، ٹرانسپورٹ، کان کنی، اعلیٰ تعلیم، زراعت، آبپاشی، مویشی بانی، صحت اور ادویات سازی، کاروباری ویزوں کے اجرا، ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور ترجیحات کی نشاندہی کی گئی۔
روس گزشتہ برس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا تھا، اور دونوں ملک حالیہ مہینوں میں تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔ معاہدے کی تفصیلات اور دستخط کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔
