مواد پر جائیں

افغانوں کی ملک بدری روکیں: 66 امریکی ارکان

امریکا کے 66 قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر افغان شہریوں کی مجوزہ اجتماعی ملک بدری روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے تحت کم از کم 150 افغانوں کو لوزیانا سے پاکستان بھیجا جانا ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

امریکا کے 66 قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے افغان شہریوں کی مجوزہ اجتماعی ملک بدری روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے 2021 کے انخلا سے قبل افغانستان میں اتحادی افواج کے ساتھ کام کیا تھا۔

وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر مارک وین مولن کے نام پیر کو لکھے گئے خط میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کا حوالہ دیا گیا ہے کہ منگل سے کم از کم 150 افغانوں کو لوزیانا کے حراستی مراکز سے طیارے کے ذریعے پاکستان بھیجا جانا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے عدالتی دستاویزات میں بتایا ہے کہ ان میں سے بعض کو بالآخر افغانستان واپس بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 'دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک میں لوگوں کو واپس بھیجنا، جہاں انہیں امریکی حکومت کی حمایت یا طالبان پر تنقید کے شبہے میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، موت کا پروانہ ہے۔' قانون سازوں نے یاد دلایا کہ امریکا نے امریکی فوجیوں کا ساتھ دینے والے افغانوں کو تنہا نہ چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا۔

افغانوں کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے سربراہ شان وین ڈائیور کے مطابق ملک بدری کا سامنا کرنے والے زیادہ تر افراد کو عدالت میں اپنا مقدمہ ٹھیک سے لڑنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ان کے پاس وکیل نہیں تھے۔ ان کے بقول ان میں سابق افغان حکومت کے ایک پولیس افسر سمیت ایسے لوگ شامل ہیں جو سابق حکومت یا امریکا کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

امریکا کے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کم از کم 35 ممالک کے ساتھ تیسرے ملک کے شہریوں کو قبول کرنے کے معاہدے کر چکی ہے اور اب تک کم از کم 25 ہزار افراد کو تیسرے ممالک بھیجا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان حالیہ برسوں میں لاکھوں افغانوں کو واپس افغانستان بھیج چکا ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-03-us-lawmakers-urge-halt-afghan-deportations?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں