ایران نے افغانستان کے معاملے پر علاقائی سفارت کاری تیز کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے آئندہ مہینوں میں ایک نیا چار ملکی اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر 2 نومبر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں یہ اعلان کیا۔
ذرائع کے مطابق بقائی نے کہا کہ ایران یہ اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں دورے بھی کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور افغانستان پر ایک چار فریقی سربراہی اجلاس سمیت کئی اہم مواقع میں حصہ لیا، اور تہران نے افغانستان سے متعلق عمل کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا۔
ترجمان نے اجلاس کی تاریخ یا ایجنڈا نہیں بتایا۔ ایران اس سے پہلے بھی افغانستان پر چار فریقی اجلاس بلاتا رہا ہے جن میں ایران کے ساتھ روس، پاکستان اور چین کے نمائندے شریک ہوتے رہے ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی برقرار ہے اور خطے کے ممالک کابل کے ساتھ تعلقات اور سلامتی کے معاملات پر مشاورت بڑھا رہے ہیں۔
