برطانیہ نے اپنے امیگریشن قوانین میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت زیادہ تر غیر ملکی کارکنوں کو مستقل رہائش (انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین) کے لیے اب پانچ کے بجائے دس سال انتظار کرنا ہوگا، جبکہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے یہ مدت 30 سال تک ہو سکتی ہے۔ وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے پیر کو پارلیمنٹ میں اس کا اعلان کیا۔
نئے قوانین اگلے سال سے نافذ ہوں گے اور ان کا اطلاق پہلے سے برطانیہ میں موجود کارکنوں پر بھی ہوگا۔ ان کے تحت سالانہ 50 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے پانچ سال بعد اور ایک لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے تین سال بعد درخواست دے سکیں گے، جبکہ باقی سب دس سالہ راستے پر ہوں گے۔ برطانیہ میں اوسط تنخواہ تقریباً 39 ہزار پاؤنڈ ہے۔
شبانہ محمود نے کہا کہ 'مستقل رہائش خودکار نہیں ہونی چاہیے، اسے کمانا چاہیے'، اور جو زیادہ حصہ ڈالیں گے وہ سب سے جلد مستقل ہوں گے۔ حکمران لیبر پارٹی کے اندر اور یونینز کی شدید مخالفت کے بعد کیئر ورکرز کو رعایت دی گئی ہے: ویزا شرائط پوری کرنے اور سالانہ کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ کمانے والے کیئر ورکرز پانچ سال بعد مستقل ہو سکیں گے۔
پناہ گزینوں میں حکومت کے محفوظ اور قانونی راستوں سے آنے والے پانچ سال بعد اہل ہوں گے، دیگر کے لیے عام مدت 20 سال ہوگی جو کام یا تعلیم کی صورت میں 10 سال رہ جائے گی۔ مجرمانہ ریکارڈ، اعلیٰ معیار کی انگریزی نہ ہونے، حکومت کا قرض واجب الادا ہونے یا کم از کم تین سال کی نیشنل انشورنس ادائیگیاں نہ ہونے پر درخواست مسترد ہو جائے گی۔
حکومت کے مطابق ان تبدیلیوں سے پانچ لاکھ افراد کو مستقل رہائش دیر سے ملے گی اور فلاحی اخراجات میں اربوں پاؤنڈ کی بچت ہوگی، جبکہ 2026 سے 2030 کے درمیان تقریباً 14 لاکھ افراد کو مستقل حیثیت ملنے کا اندازہ ہے۔ یہ فیصلہ دو لاکھ سے زیادہ آرا پر مشتمل 12 ہفتوں کی عوامی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، اور اس کا اثر برطانیہ میں کام کرنے والے پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکی کارکنوں پر پڑے گا۔
