افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں طالبان حکام نے گزشتہ مہینوں کے دوران صوبائی دارالحکومت اور مختلف اضلاع سے جمع کیے گئے 650 آلاتِ موسیقی بدھ کو نذرِ آتش کر دیے۔ خوست کے طالبان گورنر کے ترجمان مستغفر گربز نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ آلات موسیقی بجانے اور نشر کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان اپنی شرعی تشریح کے تحت موسیقی بجانے اور سننے کو ممنوع قرار دے چکے ہیں۔ ملک بھر میں آلاتِ موسیقی ضبط کر کے تلف کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ ٹیلی وژن اور ریڈیو پر بھی موسیقی نشر کرنے پر پابندی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اس سال کا پہلا ایسا واقعہ نہیں۔ گزشتہ ماہ شمالی صوبے جوزجان میں 69 آلات جلائے گئے تھے، جبکہ مئی میں خود خوست میں 800 سے زائد آلات نذرِ آتش کیے گئے۔ اس سے پہلے پروان اور لغمان میں بھی سینکڑوں آلات تلف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
امر بالمعروف کے اہلکار شادی بیاہ سمیت نجی تقریبات پر بھی چھاپے مار کر موسیقاروں کو حراست میں لیتے رہے ہیں۔ جولائی میں ننگرہار میں ایک نجی محفل میں موسیقی بجانے پر کم از کم 14 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں سینکڑوں افغان فنکار اور موسیقار ملک چھوڑ چکے ہیں، جبکہ وہاں رہ جانے والوں کو اپنا پیشہ ترک کرنا پڑا ہے۔
