مواد پر جائیں

امریکی عدالت نے افغانوں کی ملک بدری روک دی

امریکا کی ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو حراست میں لیے گئے افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان ملک بدر کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو حراست میں موجود افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان بھیجنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔ نیویارک میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ویلری کیپرونی نے منگل کو جاری کیے گئے حکم میں ملک بدری کا عمل ہفتے تک معطل کر دیا ہے، یہ حکم ان خدشات کے بعد سامنے آیا کہ واپس بھیجے جانے کی صورت میں ان افراد کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق 80 سے زائد زیرِ حراست افغانوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن وکلا سے رابطہ کیا تھا، جب امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے انہیں نوٹس ملے کہ انہیں پاکستان کے راستے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

متاثرین میں خواتین، سابق افغان سیکیورٹی اہلکار، مذہبی اقلیتوں کے افراد اور ایسے لوگ شامل بتائے جاتے ہیں جن کے رشتہ دار امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے 2021 میں طالبان کی حکومت واپس آنے کے بعد افغانستان سے نکلے تھے۔ اس سے قبل امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے بھی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر سے ان ملک بدریوں کو روکنے کی اپیل کی تھی۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-04-us-judge-blocks-deportation-detained-afghans?lang=ur