افغانستان کی طالبان حکومت ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی سربراہی کانفرنس کوپ 31 میں اپنا وفد بھیجے گی۔ 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد یہ عالمی موسمیاتی کانفرنس کے عمل میں اس کی دوسری شرکت ہو گی۔
افغانستان کے قومی ادارۂ تحفظِ ماحولیات میں موسمیاتی تبدیلی کے سربراہ روح اللہ امین نے تصدیق کی ہے کہ کابل وفد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک ترک عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ افغان نمائندوں کو مبصر کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے۔
طالبان حکومت کا وفد اس سے پہلے 2024 میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہونے والی کوپ 29 میں بھی شریک ہوا تھا۔ مبصر کی حیثیت سے وفد مباحثوں میں حصہ لے سکتا ہے مگر اسے باضابطہ مذاکرات یا فیصلوں میں ووٹ کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ملک کو بار بار خشک سالی، پانی کی قلت، شدید درجۂ حرارت اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا رہتا ہے، جو زراعت، روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ہیں اور لوگوں کو اندرونِ ملک نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں۔
