وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آنے والی سردیوں میں ملک کو ایل این جی، ایل پی جی اور تیل کی کمی سے بچانے کے لیے حکومت نے ہنگامی اور رابطہ منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے اور سمندری راستوں کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر توانائی کی ضروریات کا ہر دو تین دن بعد جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ایل پی جی کے شعبے میں دہائیوں سے قائم اجارہ داری ختم کر دی گئی ہے۔ نئے نظام کے تحت ملک میں پیدا ہونے والی ایل پی جی نگرانی میں مسابقتی نیلامی کے ذریعے فروخت ہو گی، جبکہ درآمد کنندگان کو بھی طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہو گا۔ ان کے مطابق نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی قومی خزانے میں جائے گی اور عام شہریوں کو ریلیف دینے پر خرچ ہو گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، اوگرا اور متعلقہ کمیٹی نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے ریفائنریوں سے ان کے غیر معمولی منافع میں حصہ لیا، جس کی بدولت پیٹرول کی قیمت میں مجوزہ 15 روپے فی لیٹر اضافہ صارفین تک منتقل نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول سبسڈی پروگرام، جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید ہوئے ہیں، کم از کم دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔ اب تک اس پر تقریباً 28 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور خاندانوں سمیت اس کا فائدہ قریب ساڑھے سات کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق خفیہ اداروں نے چند پیٹرول پمپوں پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، جنہیں بند کرنے اور بھاری جرمانے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا جامع ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکج کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام نے دہشت گردی کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے اور حکومت اس ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
