افغانستان میں اس سردی ایک کروڑ 92 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ اطفال (یونیسف) نے اپنی تازہ انسانی صورتحال رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ نومبر 2026 سے اپریل 2027 کے دوران ان میں سے تقریباً 50 لاکھ افراد ہنگامی درجے کی بھوک میں ہوں گے، جبکہ فنڈز کی کمی بچوں کے علاج کی خوراک اور بنیادی خدمات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہتر بارشوں اور زرعی پیداوار کے باوجود معاشی دباؤ اور انسانی امداد میں کمی خاندانوں کی خوراک تک رسائی متاثر کر رہی ہے۔ ملک کے 34 میں سے 29 صوبوں میں بچوں میں ’ویسٹنگ‘، یعنی قد کے مقابلے میں خطرناک حد تک کم وزن، میں 2026 کے آغاز کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے، اور اگست تا اکتوبر کے عرصے میں غذائی قلت اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یونیسف کا اندازہ ہے کہ 2027 میں چھ ماہ سے پانچ سال تک کے 40 لاکھ سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہو گی۔
علاج کی خوراک کی قلت سب سے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیار علاجی خوراک کے 2 لاکھ 10 ہزار کارٹن کم ہیں، جو سالانہ ضرورت کا 17 فیصد ہے۔ یونیسف کی 94 کروڑ 91 لاکھ ڈالر کی امدادی اپیل 30 ستمبر تک صرف 48 فیصد پوری ہوئی تھی، اور اس کے غذائیت کے پروگراموں کو 70 فیصد فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔
ہمسایہ ممالک سے بڑے پیمانے پر واپسی نے دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ یکم جنوری سے 3 اکتوبر تک تقریباً 13 لاکھ افغان پاکستان اور ایران سے واپس آئے، جن میں قریب 7 لاکھ 15 ہزار پاکستان اور 5 لاکھ 81 ہزار ایران سے لوٹے۔ اس کے ساتھ پولیو کے 35 کیسز اور اسہال کی وبائیں بھی صورتحال کو سنگین بنا رہی ہیں، جبکہ لاکھوں خاندان ایک اور سخت سردی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
