افغانستان کے مشرقی صوبہ لوگر میں مسلح ڈاکوؤں نے ایک استاد کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیا اور نقدی اور سونا لوٹ کر فرار ہو گئے۔ طالبان کے زیرِ انتظام صوبائی پولیس کمانڈ کے مطابق یہ واقعہ پیر 2 نومبر کی رات ضلع محمد آغا کے علاقے زرغون شہر میں پیش آیا۔
پولیس نے مقتول کی شناخت محمد عارف کے نام سے کی ہے۔ حکام کے مطابق کئی مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے، انہیں گولی مار کر قتل کیا اور ایک لاکھ 42 ہزار افغانی، 900 امریکی ڈالر اور 350 یورو، یعنی مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے تین ہزار ڈالر، کے علاوہ نامعلوم مقدار میں سونا لے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل اور ڈکیتی میں ملوث ہونے کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں افغانستان کے کئی صوبوں میں مسلح ڈکیتیوں، پرتشدد جرائم اور ٹارگٹ حملوں کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عوامی تحفظ کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ طالبان حکام 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ملک بھر میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی تحقیقات میں شفافیت پر ان پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔
