مواد پر جائیں

اسرائیل: انتخابی نتائج کی توثیق، دھاندلی مسترد

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کی توثیق کر دی ہے اور دھاندلی کا کوئی ثبوت نہ ملنے کا اعلان کیا ہے، جو وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے دھچکا ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ 9,069 پولنگ اسٹیشنوں کے جائزے میں ایسی کوئی بے ضابطگی نہیں ملی جس سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہوئی ہو یا نتائج بدلے ہوں۔ اس فیصلے کو وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے انتخابات کو مشکوک بنانے کی کوششوں کے لیے بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔

کمیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈین لیونے نے کہا کہ ہر شکایت کا الگ الگ جائزہ لیا گیا اور نتائج ووٹروں کی رائے کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ پانچ رکنی پریزیڈیم میں یش عتید اور بلیو اینڈ وائٹ کے نمائندوں نے توثیق کے حق میں ووٹ دیا، لیکود اور شاس نے ووٹ نہیں ڈالا، جبکہ سپریم کورٹ کے جج اور کمیشن کے سربراہ نوعم سولبرگ نے فیصلہ کن ووٹ دیا۔

نیتن یاہو اور ان کے اتحادی بغیر ثبوت کے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ عرب جماعتوں نے ممکنہ طور پر غیر ملکی مدد سے انتخابات ’’چرائے‘‘۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے نتائج کو ’’جعلی‘‘ قرار دیتے ہوئے عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ قطر نے عرب جماعتوں کو فنڈز دینے کے الزامات کو گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

نتائج بدھ کو صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کر دیے گئے، جو اب دو روز تک جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حکومت سازی کے لیے موزوں امیدوار کا انتخاب کریں گے۔ نیتن یاہو کی قیادت میں اتحاد نے 53 نشستیں جیتیں، گادی آئزنکوٹ کے اتحاد کو 48 جبکہ عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ کو ریکارڈ 19 نشستیں ملیں۔ کوئی بھی فریق حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں کر سکا۔ اگر کوئی اتحاد نہ بن سکا تو اسرائیل میں اگلے سال کے آغاز میں دوبارہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-04-israel-election-results-certified-no-fraud?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں