افغانستان کے مرکزی بینک، د افغانستان بانک، نے ملک بھر میں آن لائن بینکاری کی سہولیات پھیلانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بینک کے مطابق اس کی اولین ترجیحات میں اے ٹی ایم اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں کی تعداد بڑھانا شامل ہے، اور رواں سال کے آخر تک 100 نئے اے ٹی ایم اور 1,035 پی او ایس مشینیں فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔
بینک کے ترجمان حسیب اللہ نوری نے کہا: "ہمارا مقصد ملک بھر کی تمام بڑی دکانوں اور اسٹورز میں آن لائن ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام لوگ دوسرے ممالک کی طرح آن لائن بینکاری سے فائدہ اٹھائیں۔"
افغانستان بینکس ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت ملک میں 380 سے زائد اے ٹی ایم اور 537 پی او ایس مشینیں کام کر رہی ہیں اور ڈھائی ملین سے زیادہ الیکٹرانک پیمنٹ کارڈز جاری ہو چکے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو نجیب اللہ امیری کا کہنا ہے کہ بینکوں میں اس شعبے میں صحت مند مقابلہ پیدا ہوا ہے اور الیکٹرانک بینکاری اب ملک کی فوری ضرورت بن چکی ہے۔ کئی نجی بینکوں نے آن لائن اکاؤنٹ کھولنے اور کارڈز کی وسیع دستیابی جیسی سہولیات کا بھی اعلان کیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق اس وقت نو کمپنیاں کئی بڑے شہروں میں آن لائن ادائیگی کی خدمات فراہم کر رہی ہیں، تاہم انٹرنیٹ کی غیر مستحکم سہولت ان خدمات کو ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔
