سعودی عرب اور شام نے دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ بدھ کو ریاض میں شام کے صدر احمد الشرع اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں کئی معاہدے طے پائے، جن میں دفاعی معاہدے کے علاوہ شام کے توانائی، رہائش، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے 40 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد کے سعودی قرضے بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ماہ سے کم عرصے میں احمد الشرع کا ریاض کا دوسرا دورہ تھا۔
شامی وزارتِ خارجہ نے دونوں ملکوں کی وزارتِ دفاع کے درمیان معاہدے کو سب سے "نمایاں" قرار دیا، تاہم اس کی شرائط ظاہر نہیں کیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت ہوا ہے جب چند روز قبل شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منامہ ڈائیلاگ کے دوران کہا تھا کہ ان کی حکومت سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے باہمی دفاعی اتحاد، جسے "مکہ اتحاد" کہا جا رہا ہے، میں شمولیت پر غور کر رہی ہے۔
سرکاری سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی نے شامی وزارتِ خزانہ کے ساتھ چھ رعایتی قرض معاہدے کیے۔ ان میں تباہ شدہ طبی مراکز کی بحالی کے لیے 10 کروڑ ڈالر، مکانات کی مرمت کے لیے 6 کروڑ ڈالر، شہری دفاع کے لیے 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، حلب کے تھرمل پاور پلانٹ کی بحالی کے لیے 9 کروڑ ڈالر اور دمشق و ادلب میں پینے کے پانی کے نظام کے لیے 3 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ صنعت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔
شامی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی کشیدگی، بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ اور توانائی کی فراہمی پر بات کی اور بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کو خطرے میں ڈالنے والی تمام کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سعودی عرب شام کی نئی حکومت کا اہم حمایتی رہا ہے؛ دونوں رہنما اس سے پہلے 6 اکتوبر کو ریاض میں ملے تھے۔
