یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج کا کہنا ہے کہ وہ مشرقی صوبہ الجوف کے الدحیدہ پہاڑی سلسلے میں مزید اندر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ دعویٰ ایک روز قبل ان بلندیوں پر کنٹرول کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ مسلح افواج نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی مدد سے فوجیوں نے حوثیوں کے مورچوں اور بیرکوں پر دھاوا بولا اور اسلحہ و فوجی سازوسامان قبضے میں لے لیا۔
بیان کے مطابق فضائی اور ڈرون حملوں میں کئی مقامات پر حوثیوں کے اجتماعات اور گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ کو بھاری نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ پیش قدمی ’آپریشن ڈان آف یمن‘ کا حصہ بتائی جا رہی ہے جو اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پورے ملک پر ریاستی اداروں اور تسلیم شدہ حکومت کا اختیار بحال نہیں ہو جاتا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق جنوبی صوبہ الضالع میں ایک فوجی تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہوئے، تاہم کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔ حوثیوں سے منسلک میڈیا نے البیضاء شہر میں ایک سیکیورٹی کیمپ پر فضائی حملوں اور تعز میں ایک مرکزِ صحت کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمن کے وزیرِ داخلہ ابراہیم علی حیدان نے الزام لگایا کہ 21 غیر ملکی ماہرین حوثی کارروائیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں جن میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کے ارکان شامل ہیں، جسے حزب اللہ نے بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔
ادھر سعودی عرب میں شہری دفاع نے بدھ کی صبح جنوبی علاقے نجران میں دو بار انتباہی سائرن بجائے، جبکہ اس سے پہلے رات کو ریاض کے علاقے میں بھی الرٹ جاری ہوا تھا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی سرزمین پر کسی حملے کی تردید کی ہے۔
