ایتھوپیا نے سوڈان کے چھ سفارتکاروں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے سرحدی شہر اسوسا میں سوڈان کا قونصل خانہ بند کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک سینیئر ایتھوپیائی عہدیدار نے منگل کو اس اقدام کی تصدیق کی، جبکہ ایک سوڈانی عہدیدار نے بتایا کہ قونصل خانے کا عملہ منگل کی شام روانہ ہو گیا اور ایتھوپیا نے اتوار کو سوڈانی سفیر کو طلب کر کے قونصل خانہ بند کرنے سے آگاہ کیا تھا۔ دونوں عہدیداروں نے اس اقدام کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب سوڈان نے اتوار کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل میں ایتھوپیا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ خرطوم کا الزام ہے کہ ایتھوپیا نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو اپنی سرزمین سے سوڈان میں شہری تنصیبات پر ڈرون حملوں کی اجازت دے رہا ہے، جبکہ ایتھوپیا سوڈان پر شمالی خطے تیگرے کے باغیوں کی پشت پناہی کا الزام لگاتا ہے۔ دونوں ملک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
سوڈان کی عبوری خود مختار کونسل کے سیاسی و خارجہ امور کے مشیر امجد فرید نے کہا کہ سوڈانی حکومت اپنی سرزمین کے دفاع کے حق پر قائم ہے، "تاہم وہ ایتھوپیا کے ساتھ کھلی جنگ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔"
ماہرین کو خدشہ ہے کہ دونوں ملکوں کی جنگیں ایک دوسرے میں پھیل کر قرنِ افریقہ میں بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہیں۔ سوڈان میں 2023 سے فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری لڑائی میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایتھوپیا اس سے پہلے یکم اکتوبر کو اریٹیریا کے 10 سفارتکاروں کو نکال چکا ہے اور گزشتہ ماہ ایک مصری سفارتکار کو بھی ملک بدر کیا گیا تھا۔
