اقوامِ متحدہ کی سب سے بڑی عدالت، عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے)، 19 نومبر کو یہ فیصلہ سنائے گی کہ آیا میانمار نے روہنگیا مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک میں نسل کشی کے خلاف اقوامِ متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی کی یا نہیں۔ عدالت نے منگل کو اعلان کیا کہ فیصلہ ہیگ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سنایا جائے گا۔
یہ مقدمہ افریقی ملک گیمبیا نے 2019 میں دائر کیا تھا، اور اس کی کارروائی میں 11 دیگر ریاستیں بھی فریق کے طور پر شامل ہوئیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ میانمار نے روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران 1948 کے نسل کشی کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ میانمار ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔
روہنگیا ایک بے ریاست مسلم اقلیت ہیں جنہیں میانمار میں دہائیوں سے امتیاز اور بے دخلی کا سامنا ہے۔ اگست 2017 میں ریاست رخائن میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد سات لاکھ سے زائد روہنگیا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جن میں سے زیادہ تر نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی۔ اقوامِ متحدہ انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ستائی ہوئی اقلیت قرار دے چکی ہے۔
روہنگیا برادری نے گیمبیا کے اس اقدام کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا تھا، اور اب ان کی نظریں اس فیصلے پر لگی ہیں جو بین الاقوامی قانون میں نسل کشی کے مقدمات کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔
