مواد پر جائیں
سرکاری دعویٰ

افغانستان: 53 فیصد بچے پرائمری تعلیم سے محروم

یونیسف اور یونیسکو کی بدھ کو جاری مشترکہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پرائمری اسکول جانے کی عمر کے 53 فیصد بچے باضابطہ تعلیم سے محروم ہیں۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

افغانستان میں پرائمری اسکول جانے کی عمر کے آدھے سے زیادہ بچے کلاس روم تک نہیں پہنچ پا رہے۔ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف اور تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے یونیسکو کی بدھ 4 نومبر کو جاری ہونے والی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پرائمری عمر کے 53 فیصد بچے باضابطہ تعلیم سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں تیز اضافے، لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں اور ناکافی سرمایہ کاری نے افغانستان کے تعلیمی نظام کے مسائل کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دونوں اداروں کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین پر پرائمری کے بعد تعلیم حاصل کرنے کی سرکاری طور پر پابندی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 تک ملک میں تقریباً 5,300 فعال تعلیمی مراکز کام کر رہے تھے، جہاں قریب ایک لاکھ 62 ہزار طلبہ پڑھ رہے تھے اور ان میں 64 فیصد لڑکیاں تھیں۔ تاہم دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکیوں کے لیے باقی بچ جانے والے مواقع، جن میں یہ مراکز، خواندگی کے پروگرام، ہنر کی تربیت اور فاصلاتی تعلیم شامل ہیں، ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

طالبان حکومت نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی، جسے بعد میں جامعات تک بڑھا دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے اور متعدد ممالک یہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جبکہ طالبان حکام کا مؤقف رہا ہے کہ تعلیم سے متعلق فیصلے ان کی شرعی تشریح کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-05-unicef-unesco-53-percent-afghan-children-out-of-school?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔