پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط کرنے کا عزم دہراتے ہوئے افغانستان کے اندر اور وہاں سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مسلسل خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات بدھ 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے پاک برطانیہ انسدادِ دہشت گردی کے سالانہ مذاکرات کے بعد دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی۔
دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں نے بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں دہشت گرد تنظیموں اور سرحد پار نیٹ ورکس سے لاحق خطرات بھی شامل تھے۔ برطانیہ نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں بے گناہ جانوں کے ضیاع پر تعزیت کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کو پورے خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کی بنیاد قرار دیا۔ مذاکرات میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر جاری تعاون کا جائزہ بھی لیا گیا اور دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف مشترکہ عزم دہرایا گیا۔
بات چیت کا ایک اہم حصہ دہشت گردی کے نئے رجحانات سے متعلق تھا، جن میں غلط اور گمراہ کن معلومات کی مہمات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استحصال اور جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال شامل ہیں۔ دونوں ملکوں نے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تجربات کے تبادلے اور شراکت کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
برطانیہ نے علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا، جبکہ دونوں ممالک نے اداروں کے درمیان روابط بڑھانے اور باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور 2027 میں لندن میں باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر ہو گا۔
