مواد پر جائیں
سرکاری دعویٰ

جمرود: پولیو ٹیم کا سپروائزر اغوا

خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کے سپروائزر جلیل خان کو اغوا کر لیا ہے، ضلعی پولیس افسر وقار احمد نے بدھ کو اس کی تصدیق کی۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران ایک اور ٹیم نشانہ بن گئی، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کے سپروائزر جلیل خان کو اغوا کر لیا۔ ضلعی پولیس افسر وقار احمد نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ جمرود کے علاقے چپری میں سات روزہ پولیو مہم کے دوران پیش آیا اور مسلح افراد سپروائزر کو کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔

ڈی پی او کے مطابق واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں بھیج دی گئی ہے اور مغوی کی بازیابی کے لیے اہم راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

یہ گزشتہ چند دنوں میں پولیو ٹیموں پر ہونے والے کئی واقعات میں تازہ ترین ہے۔ ایک روز قبل ضلع مہمند میں پولیو ٹیم پر حملے میں دو پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا تھا۔ اسی ہفتے ضلع ٹانک کے گاؤں جیوس میں فائرنگ کے بعد چار پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا گیا، جبکہ لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک سے اغوا ہونے والے پولیو ٹیم کے دو ارکان بعد میں رہا کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق وزیرستان کے واقعے میں کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد کے ملوث ہونے کا الزام ہے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک کے 97 منتخب اضلاع میں 2 نومبر سے خصوصی انسدادِ پولیو مہم جاری ہے جو 8 نومبر تک چلے گی۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے رواں سال کا ساتواں پولیو کیس رپورٹ کیا ہے، جو ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی 13 ماہ کی بچی میں سامنے آیا۔ یہ اس سال ضلع خیبر کا دوسرا اور خیبر پختونخوا کا چھٹا کیس ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-04-jamrud-polio-team-supervisor-abducted?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں