اسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے میں بے ضابطگیوں کا معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کو وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس کیس میں قانون سب پر یکساں لاگو ہو گا اور کسی بااثر یا دولت مند شخص کو احتساب سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
تارڑ کے مطابق منصوبے کی بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے 2000 کی دہائی کے وسط سے چلے آ رہے عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے اور ٹھیکہ دیے جانے کے وقت متعلقہ افسران کی نشاندہی بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جرائم اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بعد معاملہ مزید تحقیقات کے لیے نیب کو بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ نیب کی تحقیقات میرٹ پر اور تیزی سے ہوں گی، انہیں تین ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے بعد ٹرائل شروع ہو گا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ حکومت ان سرمایہ کاروں کے تحفظ کی بھی پابند ہے جنہوں نے مبینہ بے ضابطگیوں سے لاعلم رہتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی سے اس منصوبے میں اپارٹمنٹس خریدے۔ ان کے مطابق جے آئی ٹی نے ملک اور بیرونِ ملک مقیم حقیقی سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ اور منصوبے کی مجوزہ دوبارہ ٹینڈرنگ اور نئے ڈیزائن کے پیشِ نظر انہیں مناسب معاوضہ دینے کی سفارش بھی کی ہے۔
تارڑ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ کو سراہا گیا اور اراکین نے اس کے نتائج کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں بعض عدالتی حلقوں کی جانب سے مبینہ سہولت کاری کے پہلوؤں پر بھی بات ہوئی، جن کا مناسب طریقۂ کار کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ ایک ہی شہر میں امیر اور غریب کے لیے الگ قانون نہیں ہو سکتا، اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی صرف عام شہریوں تک محدود نہ رہے۔
