بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے یکم اکتوبر کو جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 7 ستمبر سے 29 ستمبر 2026 کے درمیان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 13 مسلح کارروائیاں کیں۔ تنظیم کے ترجمان میجر گہرام بلوچ سے منسوب بیان میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں، شاہراہوں کی عارضی ناکہ بندی، گاڑیوں کی تلاشی اور دو شہریوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا ذکر شامل ہے۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
بیان کے مطابق 24 ستمبر کو مند کے علاقے مھیر میں ایک فوجی چوکی پر دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا گیا، جس میں ایک سکیورٹی اہلکار کے مارے جانے اور ایک کے شدید زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسی روز بلوچ آباد، مند میں فوجی قافلے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملے میں ایک اور اہلکار کے مارے جانے اور ایک فوجی گاڑی کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
بی ایل ایف نے 22 ستمبر کو خضدار کے علاقے بلبل سلمان جھاؤ میں ایک چوکی پر حملے میں ایک اہلکار کے مارے جانے اور ایک کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ 15 ستمبر کو مشکے کے علاقے سنیڈی میں اس کے ایک sniper نے ایک سکیورٹی اہلکار کو نشانہ بنایا۔ اس طرح بیان میں کم از کم چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے الگ الگ دعوے سامنے آتے ہیں، جبکہ بعض دیگر حملوں میں صرف جانی نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے اور تعداد نہیں بتائی گئی۔
بیان میں 21 ستمبر کو وڈھ کے علاقے روستو میں ایک سکیورٹی قافلے پر مبینہ گھات، 28 ستمبر کو جھاؤ کے سیاہ ڈمب علاقے میں ایک چوکی پر حملہ، اور 29 ستمبر کو آواران کے بازداد علاقے میں grenade launcher سے حملے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ ان واقعات میں بی ایل ایف نے نقصان کا دعویٰ کیا، لیکن مکمل casualty figures نہیں دیے۔
تنظیم نے شاہراہوں پر عارضی کنٹرول کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ اس کے مطابق 29 ستمبر کو سوراب کے مِل علاقے میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ کو پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے بند کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔ 28 ستمبر کو مند کی مرکزی شاہراہ اور 25 ستمبر کو ریک بازار، مند میں بھی ناکہ بندی کے دعوے کیے گئے۔ بی ایل ایف کا کہنا ہے کہ بعض مال بردار گاڑیوں کو روکا گیا اور کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
بی ایل ایف نے دو افراد کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ تنظیم کے بیان کے مطابق نصرت تگاپی عرف سنجو کو 16 ستمبر کو خاران میں حراست میں لیا گیا اور 24 ستمبر کو مسکان، قلات میں قتل کیا گیا۔ اسی طرح خضدار کے رہائشی سمیع اللہ، ولد شفیع اللہ، کو 7 ستمبر کو قتل کرنے کی ذمہ داری بھی تنظیم نے قبول کی۔
بی ایل ایف نے دونوں افراد پر بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے خلاف سرگرمیوں، سکیورٹی اداروں کے لیے معلومات فراہم کرنے یا دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ انہیں تنظیم کی اپنی نام نہاد “بلوچ قومی عدالت” کے فیصلے کے بعد قتل کیا گیا۔ اس نام نہاد عدالتی عمل کی کوئی آزاد، ریاستی یا عدالتی تصدیق موجود نہیں، اور متاثرہ افراد کے خلاف الزامات بھی آزاد ذرائع سے ثابت نہیں ہوئے۔
پاکستانی حکام نے اس مجموعی بیان اور اس میں شامل تمام casualty claims پر فوری طور پر کوئی جامع عوامی ردعمل جاری نہیں کیا۔ اس لیے 13 کارروائیوں، سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں، دیگر نقصانات اور دونوں شہریوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بی ایل ایف کے دعووں کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے، تصدیق شدہ حقائق کے طور پر نہیں۔
