مواد پر جائیں
تصدیق شدہوضاحتی رپورٹ

ہمیں نیند کیوں آتی ہے؟ رات بھر دماغ، یادداشت اور جسم کی گھڑی کیسے کام کرتی ہے

نیند محض آرام نہیں بلکہ ایک فعال حیاتیاتی عمل ہے۔ جانیے نیند کے مراحل، یادداشت، جسمانی گھڑی، مطلوبہ دورانیے اور بہتر نیند کی روزمرہ عادتوں کے پیچھے سائنس کیا کہتی ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

7 منٹ مطالعہ

نیند کو اکثر آرام یا کام سے وقفہ سمجھا جاتا ہے، مگر حیاتیات کے لحاظ سے یہ ایک فعال عمل ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو دماغ بند نہیں ہوتا؛ وہ مختلف مراحل سے گزرتا ہے، یادداشت کو منظم کرتا ہے، اگلے دن سیکھنے کی صلاحیت کے لیے خود کو تیار کرتا ہے اور جسم کے متعدد نظام اپنی معمول کی مرمت اور تنظیم جاری رکھتے ہیں۔

امریکی نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق نیند دو بڑی حالتوں، نان ریم اور ریم، کے درمیان چکر لگاتی ہے۔ ایک مکمل چکر عموماً 80 سے 100 منٹ میں پورا ہوتا ہے اور ایک رات میں عموماً چار سے چھ چکر آ سکتے ہیں۔ نان ریم کے تین مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں بیداری سے نیند کی طرف منتقلی ہوتی ہے، دوسرے میں انسان واضح طور پر سو چکا ہوتا ہے، جبکہ تیسرے کو گہری یا سلو ویو نیند کہا جاتا ہے۔ ریم نیند میں دماغی سرگرمی بیداری سے مشابہ ہو سکتی ہے اور خواب بھی زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔

یہ ترتیب محض دلچسپ حیاتیاتی تفصیل نہیں۔ رات کے شروع میں گہری نیند نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جبکہ بعد کے حصے میں ریم کے ادوار اہم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے صرف یہ کہنا کہ کسی نے کتنے گھنٹے بستر پر گزارے، پوری تصویر نہیں بتاتا۔ نیند کا تسلسل اور معیار بھی اہم ہیں۔ بار بار جاگنے والا شخص بظاہر کافی وقت سو سکتا ہے لیکن اسے مکمل اور تازگی بخش نیند نہ ملے۔

یادداشت رات بھر کیسے کام کرتی ہے؟

دن میں ہم مسلسل نئی معلومات لیتے ہیں: کسی کا نام، راستہ، سبق، کام کی ہدایت یا کوئی نئی مہارت۔ ابتدا میں یہ یادیں نسبتاً نازک ہوتی ہیں۔ نیند ان معلومات کو مضبوط اور منظم کرنے کے عمل میں کردار ادا کرتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی تشریح کے مطابق سونے سے پہلے مناسب نیند دماغ کو نئی یادیں بنانے کے لیے تیار کرتی ہے، جبکہ سیکھنے کے بعد نیند نئی معلومات کو زیادہ پائیدار یادداشت میں محفوظ کرنے میں مدد دیتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ سوتے ہی ہر پڑھی ہوئی چیز مستقل طور پر یاد ہو جاتی ہے۔ یادداشت ایک پیچیدہ عمل ہے اور توجہ، تکرار، معنی، جذبات اور پہلے سے موجود علم بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن نیند اس عمل کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ نیند کی کمی میں توجہ، فیصلہ سازی، مسئلہ حل کرنے، ردعمل اور چیزیں یاد رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

طالب علم کے لیے اس کا عملی مطلب سادہ ہے: امتحان سے پہلے پوری رات جاگ کر پڑھنا ہمیشہ فائدہ مند حکمت عملی نہیں۔ اگر پڑھائی کے لیے نیند قربان کی جائے تو اگلے دن دماغ نئی معلومات لینے اور پہلے پڑھے ہوئے مواد کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں کمزور پڑ سکتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ پڑھائی کو پہلے سے تقسیم کیا جائے اور رات کی نیند کے لیے مناسب وقت رکھا جائے۔

جسم کی گھڑی کیا ہے؟

انسانی جسم میں ایک اندرونی زمانی نظام ہوتا ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے۔ روشنی اور تاریکی اس نظام کے اہم اشارے ہیں۔ شام کو تاریکی بڑھنے کے ساتھ میلاٹونن نامی ہارمون بڑھنے لگتا ہے، جو جسم کو نیند کی تیاری کا اشارہ دیتا ہے۔ صبح روشنی کے ساتھ جسم بیداری کی طرف جاتا ہے۔ مصنوعی روشن روشنی، خاص طور پر رات دیر تک، اس قدرتی وقت بندی میں خلل ڈال سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موبائل فون یا کمپیوٹر کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ وقت ضائع کرتے ہیں۔ روشن اسکرین، مسلسل اطلاعات، جذباتی مواد اور ذہنی تحریک سب مل کر سونے کا وقت آگے دھکیل سکتے ہیں۔ ہر اسکرین ہر شخص پر یکساں اثر نہیں ڈالتی، لیکن رات میں روشنی کم کرنا اور سونے سے پہلے آلات سے وقفہ لینا ایک معقول نیند کی عادت ہے۔

کیفین بھی جسم کو بیداری کا اشارہ دے سکتی ہے۔ چائے، کافی، انرجی ڈرنکس اور بعض دوسری مصنوعات میں موجود کیفین کا اثر کئی گھنٹے باقی رہ سکتا ہے۔ جو شخص رات کو سونے میں مشکل محسوس کرتا ہے، اس کے لیے دوپہر یا شام کے بعد کیفین کم کرنا مفید تجربہ ہو سکتا ہے۔

کتنی نیند کافی ہے؟

ایک ہی عدد ہر عمر کے لیے درست نہیں۔ امریکی سی ڈی سی کے مطابق 18 سے 60 سال کے بالغوں کے لیے روزانہ کم از کم سات گھنٹے نیند کی سفارش کی جاتی ہے۔ 61 سے 64 سال کی عمر میں عمومی رہنمائی سات سے نو گھنٹے اور 65 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سات سے آٹھ گھنٹے ہے۔ نوجوانوں اور بچوں کو اس سے زیادہ نیند درکار ہوتی ہے؛ 13 سے 17 سال کے نوجوانوں کے لیے آٹھ سے دس گھنٹے کی سفارش کی جاتی ہے۔

یہ اعداد ہدف ہیں، مقابلہ نہیں۔ کچھ لوگوں کی ضرورت قدرے مختلف ہو سکتی ہے، مگر مسلسل بہت کم نیند کو کامیابی یا محنت کی علامت سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص مناسب وقت بستر میں گزارنے کے باوجود دن بھر شدید غنودگی، توجہ کی خرابی یا تھکن محسوس کرتا ہے تو مسئلہ صرف دورانیے کا نہیں، معیار یا کسی نیند کی خرابی کا بھی ہو سکتا ہے۔

نیند اور جسمانی صحت

نیند کے دوران جسم بے کار نہیں رہتا۔ نیند دل اور خون کی نالیوں، میٹابولزم، ہارمونز اور مدافعتی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ مسلسل ناکافی نیند کو موٹاپے، ٹائپ ٹو ذیابیطس، بلند فشار خون، دل کی بیماری، فالج، اضطراب اور ڈپریشن جیسے مسائل کے زیادہ خطرے سے جوڑا گیا ہے۔ یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے: تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کم سونے والے شخص کو لازماً یہ بیماریاں ہوں گی، یا صرف زیادہ سونا ان کا علاج ہے۔ صحت پر غذا، جسمانی سرگرمی، جینیات، ماحول اور طبی حالات سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

نیند کی کمی فوری طور پر بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ ردعمل سست ہونا، توجہ بٹنا اور مختصر لمحوں کے لیے غیر ارادی نیند، جسے مائیکرو سلیپ کہا جاتا ہے، ڈرائیونگ یا مشین چلانے میں خاص طور پر خطرناک ہے۔ اگر ڈرائیونگ کے دوران آنکھیں بھاری ہوں، بار بار جمائیاں آئیں یا پچھلے چند کلومیٹر یاد نہ رہیں تو منزل تک پہنچنے کی ضد محفوظ حکمت عملی نہیں۔

بہتر نیند کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

سب سے مؤثر عادتوں میں باقاعدہ وقت شامل ہے۔ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور اٹھنا جسم کی گھڑی کو واضح اشارہ دیتا ہے۔ صبح یا دن میں قدرتی روشنی لینا، جسمانی سرگرمی کرنا، اور رات کو کمرہ نسبتاً ٹھنڈا، تاریک اور پرسکون رکھنا مددگار ہو سکتا ہے۔ سونے سے پہلے بھاری کھانا، الکحل اور دیر سے کیفین بعض لوگوں کی نیند خراب کر سکتے ہیں۔

اگر آپ بستر پر جا کر مسلسل خبریں، ویڈیوز یا سوشل میڈیا دیکھتے رہتے ہیں تو ایک چھوٹا اصول آزمائیں: سونے سے کم از کم 30 منٹ پہلے الیکٹرانک آلات بند کر دیں۔ سی ڈی سی بھی اسی نوعیت کی عادت کی سفارش کرتا ہے۔ اس وقفے کو ہلکی پڑھائی، اگلے دن کی مختصر تیاری یا پرسکون معمول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دن میں مختصر آرام بعض حالات میں مفید ہو سکتا ہے، لیکن دیر سے یا طویل قیلولہ رات کی نیند مشکل بنا سکتا ہے۔ شفٹ میں کام کرنے والوں کی صورت حال مختلف ہوتی ہے؛ ان کے لیے روشنی، نیند کے وقت اور مختصر قیلولے کی حکمت عملی عام دفتری اوقات والے شخص سے مختلف ہو سکتی ہے۔

کب ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے؟

کبھی کبھار خراب رات عام بات ہے۔ تشویش اس وقت بڑھتی ہے جب نیند کی مشکل باقاعدہ ہو جائے، کافی وقت سونے کے باوجود تازگی نہ آئے، دن میں غیر معمولی غنودگی ہو، یا زور دار خراٹوں کے ساتھ سانس رکنے جیسے آثار ہوں۔ بے خوابی، سلیپ اپنیا، ریسٹ لیس لیگ سنڈروم اور نارکولیپسی جیسی حالتیں صرف ارادے یا بہتر عادت سے ہمیشہ حل نہیں ہوتیں اور طبی جانچ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

نیند کو وقت کا ضیاع سمجھنے کے بجائے اسے روزمرہ کارکردگی کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔ اچھی نیند اگلے دن کی توجہ، سیکھنے، یادداشت اور فیصلوں میں سرمایہ کاری ہے۔ امتحان، کاروبار، ڈرائیونگ یا گھر کے معمولات—ہر جگہ بیداری کی کیفیت اس رات سے جڑی ہوتی ہے جو اس سے پہلے گزری۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/explainer-sleep-memory-body-clock-2026-09-21?lang=ur