ہر رات ایک بظاہر معمولی واقعہ پیش آتا ہے۔ انسان کی آنکھیں بھاری ہونے لگتی ہیں، توجہ کم ہوتی ہے، اردگرد کی سرگرمیوں میں دلچسپی گھٹتی ہے اور بالآخر وہ کئی گھنٹوں کے لیے بیرونی دنیا سے بڑی حد تک لاتعلق ہوجاتا ہے۔
ہم اسے صرف ’’سونا‘‘ کہتے ہیں، لیکن جسم کے اندر صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
نیند کے دوران دماغ مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔ اس کی سرگرمی کی نوعیت بدلتی ہے۔ رات کے مختلف مراحل میں دماغی لہریں، دل کی دھڑکن، سانس، آنکھوں کی حرکت اور عضلات کی سرگرمی مختلف انداز اختیار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس نیند کو غیر فعالیت کے بجائے ایک فعال حیاتیاتی عمل سمجھتی ہے۔
ہمیں نیند کیوں آنے لگتی ہے؟
نیند کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی نظام اہم ہیں۔
پہلا جسم کی سرکیڈین گھڑی (circadian clock) ہے۔ یہ تقریباً 24 گھنٹوں کے قدرتی دن اور رات کے چکر کے مطابق جسم کے بہت سے افعال کو منظم کرتی ہے۔
روشنی اس نظام کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ آنکھوں تک پہنچنے والی روشنی کے بارے میں معلومات دماغ کے اس حصے تک جاتی ہیں جو جسمانی گھڑی کو ماحول کے دن اور رات سے ہم آہنگ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسی لیے صبح کی روشنی جسم کو بیداری کی طرف لے جانے میں مدد کرتی ہے، جبکہ شام اور رات کی تاریکی نیند کے قدرتی عمل کے لیے سازگار ہوتی ہے۔
دوسرا نظام sleep pressure یا نیند کا دباؤ ہے۔
سادہ الفاظ میں، انسان جتنی دیر بیدار رہتا ہے، عموماً سونے کی ضرورت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ نیند اس دباؤ کو دوبارہ کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
یہ دونوں نظام — جسمانی گھڑی اور بیداری کے ساتھ بڑھنے والا نیند کا دباؤ — مل کر بڑی حد تک طے کرتے ہیں کہ ہمیں کب نیند محسوس ہوگی اور کب ہم زیادہ چوکنا رہیں گے۔
کیا دماغ نیند میں بند ہوجاتا ہے؟
نہیں۔
سوئے ہوئے شخص کا دماغ بیداری کے مقابلے میں مختلف انداز سے کام کرتا ہے، مگر اس کی سرگرمی ختم نہیں ہوتی۔ نیند کے دوران دماغ مختلف مراحل سے گزرتا ہے جنہیں بنیادی طور پر REM اور non-REM sleep میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
Non-REM نیند خود مختلف مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ابتدا میں انسان نسبتاً ہلکی نیند میں داخل ہوتا ہے، پھر نیند گہری ہوتی جاتی ہے۔
اس کے بعد REM یعنی Rapid Eye Movement مرحلہ آتا ہے۔ اس مرحلے میں آنکھوں کی تیز حرکت دیکھی جاسکتی ہے اور دماغی سرگرمی کے بعض پہلو بیداری سے مشابہ ہوسکتے ہیں۔ خواب REM کے دوران نمایاں ہوسکتے ہیں، اگرچہ خواب صرف اسی مرحلے تک محدود نہیں۔
رات بھر انسان ایک ہی حالت میں نہیں رہتا بلکہ ان مراحل کے درمیان بار بار گردش کرتا ہے۔
امریکی National Heart, Lung, and Blood Institute کے مطابق ایک sleep cycle عموماً تقریباً 80 سے 100 منٹ میں دوبارہ شروع ہوتا ہے اور ایک رات میں عام طور پر چار سے چھ cycles ہوسکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام cycles ایک جیسے نہیں ہوتے۔ رات کے ابتدائی حصے میں گہری non-REM نیند نسبتاً زیادہ ہوسکتی ہے، جبکہ رات آگے بڑھنے کے ساتھ REM کے ادوار طویل ہوسکتے ہیں۔
نیند اور یادداشت کا تعلق
فرض کریں آپ نے دن میں کوئی نئی زبان سیکھی، امتحان کی تیاری کی، کوئی نیا ہنر آزمایا یا کسی اہم واقعے کا تجربہ کیا۔
کام صرف معلومات حاصل کرنے پر ختم نہیں ہوجاتا۔
دماغ کو ان معلومات کو ترتیب دینے، مضبوط کرنے اور ضرورت کے مطابق محفوظ رکھنے کے عمل سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند learning اور memory کے عمل سے اہم طور پر منسلک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پوری رات جاگ کر پڑھنا بظاہر اضافی مطالعے کا وقت فراہم کرسکتا ہے، لیکن نیند کی شدید کمی توجہ، سیکھنے اور اگلے دن معلومات استعمال کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
یعنی امتحان سے پہلے دماغ کو صرف کتاب کی ضرورت نہیں؛ مناسب نیند بھی سیکھنے کے پورے عمل کا حصہ ہے۔
جسم کی اندرونی گھڑی خراب کیسے ہوتی ہے؟
جسمانی گھڑی کوئی الگ گھڑیال نہیں بلکہ حیاتیاتی نظام ہے جو ماحول سے ملنے والے اشاروں، خصوصاً روشنی، سے متاثر ہوتا ہے۔
اسی لیے مختلف time zones کے درمیان تیزی سے سفر کرنے والے افراد کو jet lag محسوس ہوسکتا ہے۔
مثال کے طور پر کسی شخص کا جسم ابھی اپنے پرانے شہر کے وقت کے مطابق رات سمجھ رہا ہو، جبکہ نئی جگہ پر صبح ہوچکی ہو۔ مقامی وقت اور اندرونی جسمانی گھڑی کے درمیان یہی عارضی فرق نیند، بیداری اور توجہ کو متاثر کرسکتا ہے۔
رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کو بھی اسی نوعیت کا مسئلہ پیش آسکتا ہے، کیونکہ انہیں ایسے وقت بیدار رہنا پڑتا ہے جب جسم کی قدرتی گھڑی نیند کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔
فون اور روشنی کا کیا تعلق ہے؟
اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’موبائل فون نیند ختم کردیتا ہے۔‘‘ حقیقت قدرے زیادہ پیچیدہ ہے۔
رات کے وقت روشن اسکرین دیکھنے سے ملنے والی روشنی جسمانی گھڑی اور نیند سے متعلق سگنلز کو متاثر کرسکتی ہے۔ خصوصاً سونے سے پہلے مسلسل روشن اسکرینوں کا استعمال بعض لوگوں میں نیند آنے میں تاخیر سے منسلک ہوسکتا ہے۔
لیکن مسئلہ صرف روشنی نہیں۔
اگر کوئی شخص بستر پر لیٹ کر مسلسل مختصر ویڈیوز دیکھ رہا ہو، خبریں پڑھ رہا ہو، گیم کھیل رہا ہو یا سوشل میڈیا پر جذباتی بحث میں مصروف ہو تو ذہنی تحریک بھی اسے بیدار رکھنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
اس لیے فون کو محض ایک ’’نیلی روشنی پیدا کرنے والی چیز‘‘ سمجھنا مکمل تصویر نہیں۔
ایک بالغ انسان کو کتنی نیند چاہیے؟
نیند کی ضرورت ہر شخص میں بالکل یکساں نہیں ہوتی اور عمر کے ساتھ بھی تبدیل ہوتی ہے۔
امریکی Centers for Disease Control and Prevention کے مطابق 18 سے 60 سال کے بالغ افراد کے لیے روزانہ سات یا اس سے زیادہ گھنٹے کی نیند عمومی سفارش ہے۔ بڑی عمر کے افراد کے لیے سفارشات کچھ مختلف ہوسکتی ہیں۔
تاہم صرف گھنٹوں کی تعداد کافی نہیں۔
نیند کا معیار بھی اہم ہے۔ کوئی شخص آٹھ گھنٹے بستر پر گزار سکتا ہے لیکن اگر اس کی نیند بار بار ٹوٹتی رہے تو وہ صبح تازگی محسوس نہ کرے۔
اس لیے ’’میں آٹھ گھنٹے بستر پر تھا‘‘ اور ’’میں نے آٹھ گھنٹے اچھی نیند لی‘‘ لازماً ایک ہی بات نہیں۔
ہفتے بھر کی کم نیند ویک اینڈ پر پوری ہوسکتی ہے؟
یہ تصور بھی عام ہے کہ پیر سے جمعہ تک کم سوئیں اور ہفتہ یا اتوار کو بہت زیادہ سو کر پورا حساب برابر کردیں۔
اضافی نیند بعض صورتوں میں تھکن کم کرنے میں مدد کرسکتی ہے، لیکن مستقل طور پر ناکافی نیند کو معمول بنا کر صرف ویک اینڈ کی نیند پر انحصار کرنا صحت مند اور باقاعدہ sleep schedule کا مکمل متبادل نہیں سمجھا جاتا۔
جسم کی اندرونی گھڑی باقاعدگی سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔
اگر سونے اور جاگنے کے اوقات ہر روز بہت زیادہ بدلتے رہیں تو جسم کو مستقل معمول قائم کرنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔
کافی ہمیں جگاتی کیسے ہے؟
کافی، چائے اور کئی مشروبات میں موجود کیفین دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے محرک مادوں میں سے ایک ہے۔
دن بھر بیدار رہنے کے دوران دماغ میں adenosine نامی مادے کا اثر بڑھتا ہے جو نیند کے دباؤ سے منسلک ہے۔ کیفین adenosine receptors کو عارضی طور پر بلاک کرکے غنودگی کے احساس کو کم کرسکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم فرق ہے۔
کیفین نیند کی اصل حیاتیاتی ضرورت کو ختم نہیں کرتی۔ یہ کچھ وقت کے لیے نیند محسوس ہونے کے عمل میں مداخلت کرتی ہے۔
اسی لیے شدید نیند کی کمی کے بعد کئی کپ کافی پینا مناسب نیند کا حقیقی متبادل نہیں۔
خواب کیوں آتے ہیں؟
یہ سوال انسان ہزاروں سال سے پوچھتا آیا ہے۔
سائنس جانتی ہے کہ خواب مختلف sleep stages میں آسکتے ہیں اور REM sleep میں اکثر زیادہ واضح اور پیچیدہ خواب رپورٹ کیے جاتے ہیں، لیکن خوابوں کا ایک واحد اور مکمل طور پر ثابت شدہ مقصد اب بھی طے نہیں ہوا۔
مختلف نظریات خوابوں کو یادداشت، جذباتی processing، تجربات کی تنظیم اور دماغ کی داخلی سرگرمی سے جوڑتے ہیں۔
یہاں سائنس کی حد کو سمجھنا بھی ضروری ہے: ہر دلچسپ سوال کا ابھی حتمی جواب موجود نہیں۔
نیند صرف دماغ کے لیے نہیں
نیند کے اثرات پورے جسم تک پھیلے ہوئے ہیں۔
مناسب نیند مدافعتی نظام، metabolism، ہارمونز، قلبی صحت، توجہ، ردعمل اور جذباتی regulation سمیت متعدد جسمانی و ذہنی افعال سے وابستہ ہے۔
اسی لیے مسلسل ناکافی نیند کا مسئلہ صرف اگلی صبح جمائیاں لینے تک محدود نہیں رہتا۔
نیند کی کمی سے توجہ اور ردعمل کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے، جو ڈرائیونگ یا مشینری استعمال کرنے جیسے کاموں میں خاص طور پر اہم ہے۔
انسان کبھی کبھی خود کو یہ باور کراسکتا ہے کہ وہ کم نیند کا عادی ہوگیا ہے، مگر محسوس ہونے والی عادت اور جسمانی کارکردگی لازماً ایک چیز نہیں۔
اچھی نیند کے لیے بنیادی اصول
نیند کو کسی ایک ’’ہیک‘‘ سے درست نہیں کیا جاسکتا، لیکن چند بنیادی عادات مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
سونے اور جاگنے کا نسبتاً مستقل وقت رکھنا، دن میں مناسب قدرتی روشنی حاصل کرنا، سونے کے قریب بہت زیادہ کیفین سے گریز کرنا، رات میں کمرے کو پرسکون اور آرام دہ رکھنا اور بستر کے قریب غیر ضروری ذہنی تحریک کم کرنا بہتر sleep routine بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگر کسی شخص کو مسلسل نیند آنے میں شدید دشواری ہو، رات میں بار بار سانس رکنے یا گھٹن جیسی علامات ہوں، بہت زیادہ خراٹے آتے ہوں، یا کافی وقت سونے کے باوجود دن میں غیر معمولی غنودگی رہتی ہو تو اسے محض طرزِ زندگی کی معمولی خرابی سمجھنے کے بجائے طبی مشورہ لینا مناسب ہوسکتا ہے۔
ایک تہائی زندگی جو ضائع نہیں ہوتی
انسان اپنی زندگی کا ایک قابلِ ذکر حصہ نیند میں گزارتا ہے۔ بظاہر یہ وہ وقت ہے جب ہم کام نہیں کررہے، پڑھ نہیں رہے اور دنیا سے براہِ راست تعامل نہیں کررہے۔
لیکن حیاتیاتی نقطۂ نظر سے یہ وقت ضائع نہیں ہورہا۔
ہر رات جسم اپنی اندرونی گھڑی کے مطابق بیداری سے نیند کی طرف جاتا ہے۔ دماغ مختلف sleep stages سے گزرتا ہے، یادداشت اور سیکھنے سے متعلق عمل جاری رہتے ہیں اور جسم اگلے دن کی فعالیت کے لیے ضروری حیاتیاتی کام انجام دیتا ہے۔
اسی لیے شاید نیند کے بارے میں سب سے اہم بات یہ نہیں کہ ہم سوتے ہوئے ’’کچھ نہیں کرتے‘‘۔
اہم بات یہ ہے کہ بہت سے ضروری کام ایسے ہیں جو ہمارا جسم اسی وقت بہتر طور پر انجام دیتا ہے جب ہم سو رہے ہوتے ہیں۔


