اینڈریو کوریبکو نے 6 اکتوبر کے مضمون میں روس اور افغانستان کے بڑھتے فوجی و تکنیکی روابط کے ممکنہ علاقائی نتائج کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افغان وفد کی روس کی فوجی مشقوں میں شرکت اور روسی ساختہ سامان کی مرمت سے متعلق پہلے طے شدہ تعاون کو اس بحث کا پس منظر قرار دیا۔
ان کے مطابق اگر مستقبل میں افغان فورسز کو جدید نگرانی کے آلات یا ڈرون ملتے ہیں تو اسلام آباد ان کی ممکنہ سرحدی استعمال پر تشویش ظاہر کرسکتا ہے۔ تاہم کوریبکو نے واضح کیا کہ روس کی جانب سے طالبان کو جنگی ہتھیاروں کی مبینہ فراہمی کے بارے میں دستیاب افواہیں تصدیق طلب ہیں۔
وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ روس طالبان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ چھیڑنا نہیں چاہے گا، کیونکہ پاکستان کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات روس کے لیے اہم ہیں۔ ان کے تجزیے میں داعش خراسان سے مقابلہ اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے خطرے کے درمیان توازن ماسکو کے فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ مذکورہ امکانات کو کوئی طے شدہ عسکری معاہدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
روس اور افغانستان میں عسکری تکنیکی تعاون کی نوعیت پر گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے کسی باضابطہ معاہدے کے دائرے کو سمجھنا ضروری ہے۔ روسی ساختہ پرانے سازوسامان کی مرمت، تربیتی تبادلے، نگرانی کے آلات اور حملہ آور ہتھیاروں کی فراہمی الگ الگ سرگرمیاں ہیں۔ ان میں سے ایک کی تصدیق دوسری سرگرمی کا ثبوت نہیں بنتی۔
کوریبکو نے اس موضوع پر روس کی داعش خراسان سے متعلق سلامتی تشویش کو اہم قرار دیا۔ روس کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں کا استحکام دفاعی اور معاشی اعتبار سے اہم ہے۔ اس لیے کابل سے رابطے بڑھانے کو وہ صرف پاکستان کے مقابل طاقت بڑھانے کے تناظر میں نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے وسیع تصور میں دیکھتے ہیں۔
اسلام آباد کے لیے معاملہ مختلف زاویے سے حساس ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ جدید نگرانی یا عسکری ٹیکنالوجی اس کے خلاف استعمال ہوسکتی ہے یا ٹی ٹی پی جیسے گروہوں تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم کسی ٹیکنالوجی کی ممکنہ منتقلی سے اس کی عملی منتقلی یا استعمال ثابت نہیں ہوتا۔ دونوں کے لیے آزاد شواہد درکار ہیں۔
اس بحث میں بھارت کا نام بھی آتا ہے، کیونکہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے تعلقات میں دیرینہ کشیدگی موجود ہے۔ لیکن بھارت کے روس سے دفاعی تعاون اور روس کے افغانستان سے تعلقات کو خودبخود پاکستان کے خلاف ایک خفیہ اتحاد سمجھنا جلدبازی ہوگا۔ ریاستوں کے متعدد اور بعض اوقات متضاد مفادات ہوتے ہیں۔
اس سے متعلق اصل خطرہ غلط فہمی کا ہے۔ اگر ایک حکومت دوسرے کے کسی فنی معاہدے کو فوری حملہ آور شراکت سمجھ لے تو وہ اپنے دفاعی اقدامات بڑھا سکتی ہے۔ جواب میں دوسرا فریق بھی سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے، اور معمول کا تعاون علاقائی بحران میں بدلنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
تصدیق کے لیے معاہدوں کے عوامی متن، فراہم کیے گئے سازوسامان کی قابلِ اعتماد معلومات، سرکاری ریکارڈ اور غیرجانبدار ماہرین کی جانچ ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کی تصویر یا کسی نامعلوم اہلکار کا دعویٰ تنہا کافی نہیں۔
سیاسی طور پر قابلِ عمل راستہ یہ ہے کہ روس، پاکستان اور افغانستان اپنے خدشات براہِ راست سفارتی سطح پر واضح کریں۔ داعش خراسان کے خلاف تعاون اور ہمسایوں کے خلاف مسلح گروہوں سے تعلق کے سوالات کو الگ میزوں پر شواہد کے ساتھ زیر بحث لانا زیادہ مفید ہوگا۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور ان کے اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود لکھا ہوا تفصیلی اردو تجزیہ ہے، کسی محفوظ تحریر کی مکمل نقل یا ترجمہ نہیں۔ سیاسی نتائج اور غیرمصدقہ الزامات مصنف سے منسوب ہیں۔ اصل مضمون کا لنک ماخذ کے خانے میں موجود ہے۔
