اینڈریو کوریبکو نے مئی 2026 کی تحریر میں روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو اور وزیر دفاع آندرے بیلوسوف کے ان بیانات کا جائزہ لیا جن میں افغانستان یا وسطی ایشیا میں بیرونی فوجی تنصیبات کی واپسی اور خطے میں غیرعلاقائی افواج کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
کوریبکو نے ان عمومی روسی سلامتی خدشات سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کی سرزمین یا فضائی حدود بعض فرضی امریکی منصوبوں میں استعمال ہو سکتی ہیں۔ تاہم زیر بحث روسی بیانات میں پاکستان کو اس منصوبے کا مصدقہ شریک یا ذمہ دار ثابت نہیں کیا گیا؛ یہ تعلق مصنف نے اپنے تجزیے میں قائم کیا ہے۔
ان کے مطابق روس پاکستان کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعاون جاری رکھنا بھی چاہتا ہے، اس لیے خدشات کے باوجود دونوں ملکوں میں فوری ٹکراؤ لازمی نہیں۔ مضمون کا بنیادی سوال امریکی فوجی رسائی اور علاقائی سلامتی ہے، نہ کہ پاکستان پر کسی ثابت شدہ منصوبے میں شمولیت کا حتمی الزام۔
روسی سلامتی حکام کی جانب سے مغربی فوجی تنصیبات یا دہشت گرد تنظیموں کی نقل و حرکت پر اظہارِ تشویش کو پاکستان کے خلاف مخصوص الزام قرار دینے سے پہلے اصل الفاظ دیکھنا ضروری ہے۔ خطے میں کئی سرحدیں، فضائی راستے اور زمینی گزرگاہیں ہیں؛ کسی ایک ملک کو بغیر تفصیلی شواہد واحد ممکنہ راستہ کہنا درست نہیں۔
کوریبکو کا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کے امریکا سے سابقہ دفاعی تعاون اور جغرافیائی محل وقوع کے باعث روس اسے ممکنہ امریکی رسائی کے زاویے سے دیکھ سکتا ہے۔ یہ مفروضہ جغرافیائی سیاست کا ایک قابلِ بحث پہلو ہے، لیکن اس سے موجودہ خفیہ انتظام یا فوجی تنصیب کا ثبوت نہیں نکلتا۔
روس کے لیے افغانستان کے آس پاس سلامتی کی اہمیت وسطی ایشیائی تعلقات سے جڑی ہے۔ مسلح گروہوں کے پھیلاؤ، غیرقانونی ہتھیاروں کی منتقلی اور سماجی عدم استحکام سے متعلق خدشات موجود ہو سکتے ہیں؛ مگر کسی متعین نیٹ ورک کے راستے کی شناخت شواہد پر ہی ہونی چاہیے۔
پاکستان کی جانب سے ایسی کسی سرگرمی میں شرکت کے الزام پر سرکاری مؤقف، دفاعی معاہدوں کی نوعیت، فضائی اجازت ناموں اور زمینی شواہد کو الگ سے دیکھنا ہوگا۔ غیرملکی فوجی اڈا، خفیہ انٹیلی جنس تعاون، فضائی گزر اور محدود سفارتی رابطے یکساں سرگرمیاں نہیں ہیں۔
اس بحث میں چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا نام صرف ان کے جغرافیائی وجود کی وجہ سے نہیں لگایا جانا چاہیے۔ ہر ملک کے اپنے سرحدی انتظامات، سلامتی مفادات اور بیرونی روابط ہیں۔ عمومی روسی انتباہ سے کسی فریق کی ذمہ داری طے نہیں ہو سکتی۔
پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، تجارت اور سفارتی تعاون کی خواہش بھی ساتھ موجود ہے۔ دونوں ملکوں میں کسی مخصوص خدشے کے باوجود دوسرے شعبوں کے تعلقات برقرار رہنا ممکن ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں یہی پیچیدگی یک رخی نتائج سے بچنے کا سبب ہے۔
صحافتی نتیجہ واضح ہے: روسی حکام نے علاقائی خطرات کی بات کی، جبکہ پاکستان کے ممکنہ کردار سے متعلق سخت نتیجہ کوریبکو نے اپنی تشریح میں اخذ کیا۔ جب تک براہِ راست ثبوت سامنے نہ آئیں، ان دونوں کو ایک ہی ثابت شدہ الزام بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور اصل ناشر کے تحقیقی کام کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی جامع اردو تجزیاتی تحریر ہے، کسی محفوظ مضمون کی مکمل نقل یا لفظ بہ لفظ ترجمانی نہیں۔ اصل تحریر کا حوالہ ماخذ میں درج ہے۔
