مواد پر جائیں

پاکستان کی عالمی ابلاغی حکمت عملی کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟ کوریبکو کی تنقید

اینڈریو کوریبکو کی 17 اپریل 2026 کی تحریر «Pakistan Will Always Face Significant Challenges In The Soft Power Sphere» کا اردو خلاصہ؛ پاکستان، روس، افغانستان اور علاقائی تعلقات سے متعلق مصنف کے دعوے اور ان کی حدود واضح ہیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

3 منٹ مطالعہ

امریکی تجزیہ کار اینڈریو کوریبکو نے 17 اپریل 2026 کو پاکستان کی بین الاقوامی ابلاغی حکمت عملی اور سافٹ پاور پر تنقیدی مضمون لکھا۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر انگریزی زبان کے ذرائع ابلاغ میں سرمایہ کاری کے باوجود پاکستانی مؤقف کی عالمی پذیرائی محدود رہ سکتی ہے، خصوصاً جب ملک کی داخلی صحافتی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے ہوں۔

کوریبکو چین پاکستان اقتصادی راہداری کی توقعات، کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کی حکمت عملی اور امریکا سے پاکستان کے تعلقات کو اس بحث سے جوڑتے ہیں۔ ان کی رائے میں ذرائع ابلاغ کی تعداد میں اضافہ بذات خود عالمی اثر و رسوخ کی ضمانت نہیں؛ مخصوص سفارتی، تعلیمی اور تحقیقی حلقوں کے ساتھ مؤثر رابطے زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔

یہ پاکستان کی اہمیت یا اس کے عوام کی صلاحیت کا کوئی متفقہ پیمانہ نہیں بلکہ مصنف کی اپنی سخت سیاسی رائے ہے۔ ابلاغی اثر و رسوخ جانچنے کے لیے الگ اعدادوشمار اور دوسرے ماہرین کے نقطہ ہائے نظر بھی ضروری ہیں۔

کسی ملک کی سافٹ پاور صرف اپنے حق میں مضامین شائع کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اس میں اس کی یونیورسٹیوں کی علمی حیثیت، ثقافتی صنعتوں کی بین الاقوامی رسائی، سفارتی اعتبار، تارکین وطن کے تعلقات، عدالتی ساکھ اور شہری آزادیوں سے متعلق دنیا کا تاثر شامل ہوتا ہے۔ یہ عوامل ایک دوسرے کو تقویت بھی دیتے ہیں اور کمزور بھی کر سکتے ہیں۔

کوریبکو کا اعتراض پاکستان کے ان ابلاغی اقدامات پر ہے جن میں ریاستی پالیسی کا دفاع بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل یا انگریزی ذرائع سے کیا جاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پیش کردہ بیانیہ اس وقت مؤثر نہیں رہتا جب اندرونی حالات اور آزاد رپورٹنگ اس سے مختلف تصویر دکھائیں۔ یہ ایک قابلِ بحث نظریہ ہے۔

یہاں پہلا سوال عالمی سامعین کا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے قارئین، سرمایہ کار، تحقیقاتی ادارے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی ایک جیسی معلومات نہیں چاہتے۔ ایک ہی سرکاری پیغام سب پر مساوی اثر نہیں ڈالتا۔ اسی لیے مخصوص اور قابلِ جانچ اعدادوشمار زیادہ معتبر ہوتے ہیں۔

صحافت کی آزادی اس معاملے میں براہِ راست اہم ہو سکتی ہے۔ اگر مقامی صحافی مشکل سوال پوچھ سکتے ہوں اور عدالتوں اور اداروں سے آزادانہ جواب طلب کر سکتے ہوں تو بیرونی دنیا کے لیے حکومتی دعووں کی تصدیق بھی آسان ہوتی ہے۔ اختلاف رائے سے نمٹنے کا طریقہ ریاست کی ساکھ پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس بین الاقوامی تعلقات کے لیے مثبت وسائل بھی ہیں: ثقافت، زبانیں، کھیل، سائنسی خدمات، کاروباری روابط اور بیرون ملک آباد معاشرے۔ انہیں صرف سیاسی تنازع کے تناظر میں دیکھنا ملک کی متنوع شناخت محدود کر دے گا۔

کسی ابلاغی حکمت عملی کا جائزہ ویڈیوز کی تعداد یا سوشل میڈیا کے رجحانات کے بجائے آزاد عالمی سروے، سفارتی نتائج، سیاحتی رجحان، تعلیمی تبادلوں اور تجارتی تعاون سے بھی لیا جانا چاہیے۔ ان میں تبدیلی کی وجہ ہمیشہ ایک ہی پیغام نہیں ہوتی۔

کوریبکو کی سخت رائے سے اتفاق کیے بغیر بھی بنیادی سبق یہ ہو سکتا ہے کہ مستقل بین الاقوامی اعتبار کے لیے دعووں کی آزاد تصدیق، پالیسی کی پیش گوئی کے قابل سمت اور شہری آزادیوں کا احترام نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور اصل ناشر کے تحقیقی کام کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی جامع اردو تجزیاتی تحریر ہے، کسی محفوظ مضمون کی مکمل نقل یا لفظ بہ لفظ ترجمانی نہیں۔ اصل تحریر کا حوالہ ماخذ میں درج ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/korybko-pakistan-soft-power-limit-2026?lang=ur