4 اکتوبر 2026 کو اینڈریو کوریبکو نے پاکستانی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے روسی نشریاتی ادارے اسپوتنک کو دیے گئے انٹرویو پر تنقید کی۔ ان کے مطابق گفتگو میں پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی اور روابط بڑھانے کی بات تو ہوئی مگر کسی بڑے نئے معاہدے کی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی۔
کوریبکو نے پاکستان اسٹیل ملز، ہائیڈرو پاور اور علاقائی نقل و حمل کے منصوبوں پر ہونے والی بات چیت کا ذکر کیا۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کے امریکا سے تعلقات ممکنہ بڑے روسی توانائی منصوبوں کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، تاہم اس الزام کو انہوں نے اپنی سیاسی تشریح کے طور پر پیش کیا۔
ان کی رائے میں اس انٹرویو کا مثبت پہلو دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی خواہش کا اعادہ تھا۔ کسی معاہدے کی عدم موجودگی سے یہ لازماً ثابت نہیں ہوتا کہ بیرونی حکومت نے اسے روکا ہے؛ اصل صورتحال کا اندازہ متعلقہ وزارتوں کے جاری کردہ معاہدوں اور فیصلوں سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان توانائی تعاون کئی سال سے زیر گفتگو ہے، مگر اعلان، ابتدائی مذاکرات، مفاہمتی یادداشت اور مالی بندوبست والے قابلِ عمل معاہدے میں فرق ہے۔ سرمایہ کاری کے کسی منصوبے کی کامیابی جانچنے کے لیے اس کی لاگت، مالی شراکت، کام شروع ہونے کی تاریخ اور قانونی ذمہ داریاں دیکھنا ضروری ہیں۔
پاکستان کی توانائی ضروریات حقیقی ہیں۔ صنعت اور گھرانوں کے لیے بجلی کی قیمت، درآمدی ایندھن پر انحصار اور پرانے پیداواری نظام کی کارکردگی ایسے عوامل ہیں جو ہر نئی شراکت میں اہم ہوں گے۔ روس سے تعاون مفید یا غیرمفید ہونے کا فیصلہ صرف سیاسی قربت سے نہیں بلکہ منصوبے کے قابلِ پیمائش معاشی نتائج سے ہونا چاہیے۔
کوریبکو کا دعویٰ ہے کہ امریکا کا اثر روس پاکستان منصوبوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس کے حق میں فیصلہ کن ثبوت کے لیے مخصوص مذاکرات، پابندیوں کے اثر، مالیاتی بینکوں کے فیصلے اور پاکستانی اداروں کی پالیسی کا جائزہ درکار ہے۔ کسی انٹرویو میں معاہدے کا اعلان نہ ہونا بذات خود امریکی ویٹو کی تصدیق نہیں۔
موجودہ عالمی پابندیوں، ادائیگی کے ذرائع اور ترسیل کی مشکلات کے باعث روسی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں حقیقی تجارتی پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ حکومتیں بعض اوقات انہیں سفارتی بیانات میں تفصیل سے بیان نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اعدادوشمار اور دستاویزات سیاسی تبصرے سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری اور ایران و وسطی ایشیا کے توانائی راستے بھی اس تصویر کا حصہ ہیں۔ پاکستان اگر مختلف ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے لازماً ایک عالمی طاقت کی مکمل اطاعت یا دوسرے سے دشمنی نہیں کہا جاسکتا۔
اصل انٹرویو کا ایک مثبت پہلو دونوں ملکوں کی طرف سے اقتصادی روابط بڑھانے کی خواہش کا اظہار تھا۔ تاہم خواہش کو عملی پیش رفت قرار دینے کے لیے کسی معاہدے کے نفاذ کا ریکارڈ ضروری ہے۔
مارگلہ نیوز کے اس جائزے کا نتیجہ یہ ہے کہ روس پاکستان توانائی تعاون پر کوریبکو کی سخت تنقید ایک ممکنہ سیاسی زاویہ دیتی ہے، مگر فیصلہ منصوبوں کی تفصیل اور شفاف حکومتی دستاویزات کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور ان کے اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود لکھا ہوا تفصیلی اردو تجزیہ ہے، کسی محفوظ تحریر کی مکمل نقل یا ترجمہ نہیں۔ سیاسی نتائج اور غیرمصدقہ الزامات مصنف سے منسوب ہیں۔ اصل مضمون کا لنک ماخذ کے خانے میں موجود ہے۔
