تجزیہ کار اینڈریو کوریبکو نے 6 اکتوبر کی تحریر میں سوال اٹھایا کہ آیا پاکستان میں بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا شخصیات روس اور طالبان کے تعلقات پر جان بوجھ کر منفی مہم چلا رہی ہیں۔ یہ کوریبکو کی تعبیر ہے، کسی غیر جانب دار تحقیق سے ثابت شدہ منظم مہم نہیں۔
کوریبکو نے لکھا کہ افغانستان کے بارے میں روسی اور پاکستانی مؤقف کے اختلاف کے بعد یہ افواہ پھیلی کہ ماسکو یا بیلاروس طالبان کو پاکستان کے خلاف ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس الزام کو غیرمصدقہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسے دعوے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مضمون میں پاکستانی عسکری و اطلاعاتی اداروں کے اثر و رسوخ کے بارے میں سخت سیاسی رائے بھی ظاہر کی گئی۔ تاہم کسی خاص سرکاری حکم، منظم آپریشن یا فوجی سازش کے لیے قطعی ثبوت اس خلاصے میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان اور روس کے تعلقات کے بارے میں اصل مضمون کے تمام نتائج مصنف کی رائے ہیں۔
روس اور پاکستان کے درمیان کسی تنازع میں سوشل میڈیا پر سخت زبان کا بڑھ جانا ایک مشاہدہ ہے، لیکن اسے منظم سرکاری اطلاعاتی کارروائی کہنا اس سے کہیں بڑا الزام ہے۔ ایسی کارروائی ثابت کرنے کے لیے ہم آہنگ اکاؤنٹس کے رویے، مالی معاونت، تنظیمی ربط، ہدایات یا دوسرے آزاد شواہد درکار ہوں گے۔
کوریبکو نے پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا شخصیات کی روس پر تنقید کو ایک بڑے سیاسی ماحول سے جوڑا۔ وہ اسے پاکستان میں عسکری اداروں کے اثر و رسوخ کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ تاہم کسی صحافی کا مؤقف ایک جیسا ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے ایک ہی ادارے نے ہدایت دی ہے۔
روس کی طالبان حکومت سے بڑھتی قربت پاکستانی عوام یا تجزیہ کاروں میں حقیقی تشویش بھی پیدا کرسکتی ہے۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کا ناراض ہونا فطری ہوسکتا ہے۔ ہر تنقید کو پراکسی آپریشن کہنے سے جائز سوالات بھی نظرانداز ہونے کا خطرہ ہے۔
اسی طرح روس کی طرف سے طالبان کو پاکستان کے خلاف ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتبار ثبوت چاہیے۔ روس اور افغانستان کے فنی تعاون، سفارتی ملاقاتوں اور کسی جنگی ہتھیار کی مخصوص منتقلی کو الگ رکھنا ضروری ہے۔
اطلاعاتی محاذ آرائی کے خطرات میں سفارتی بداعتمادی، غلط خبر کی تکرار، اور ایک دوسرے کے باشندوں کے بارے میں اجتماعی تعصب شامل ہیں۔ سیاسی اختلاف کو تہذیب سے بیان کرنا نہ صرف عوامی بحث بہتر بناتا ہے بلکہ حکومتی مؤقف کی قابلِ اعتماد تشخیص بھی ممکن بناتا ہے۔
بہتر صحافتی طریقہ یہ ہوگا کہ ہر دعوے کے لیے پہلا اصل ماخذ، تاریخ، شواہد اور فریقین کا جواب واضح طور پر درج کیا جائے۔ تجزیہ کار کو بھی یہ فرق بیان کرنا چاہیے کہ وہ کون سی بات دستاویز سے اخذ کر رہا ہے اور کہاں اپنی سیاسی تعبیر پیش کر رہا ہے۔
کوریبکو کے مضمون کی اہمیت روس پاکستانی تعلقات میں غلط معلومات کے ممکنہ نقصان کی طرف توجہ دلانے میں ہے۔ لیکن ان کی تجویز کردہ منظم مہم اور اس کے مقاصد کو الگ ثبوت کے بغیر ثابت شدہ سرکاری کارروائی کہنا مناسب نہیں۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: اینڈریو کوریبکو اور ان کے اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود لکھا ہوا تفصیلی اردو تجزیہ ہے، کسی محفوظ تحریر کی مکمل نقل یا ترجمہ نہیں۔ سیاسی نتائج اور غیرمصدقہ الزامات مصنف سے منسوب ہیں۔ اصل مضمون کا لنک ماخذ کے خانے میں موجود ہے۔
